اولیا و علمائے دین کو حضور پر نور کہنا ، امام اہل سنت کے سوا دوسرے کو اعلیٰ حضرت کہنا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنے پیر ومرشد کو کہا ہے ” حضور پرنور اعلی حضرت شاہجی محمد شیر میاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔سائل یہ کہتا ہے کہ حضور پر نور تو سرکار دو عالم کولکھنا چاہئے کیونکہ یہ الفاظ آپ ہی کے شایان شان ہیں آپ سرتا پا اللہ کے نور ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کا لقب ہے ۔ جب کوئی اعلیٰ حضرت کہتا ہے تو فورا ذہن آپ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ آپ چودھویں صدی کے مجدد، اہل سنت کے امام ہیں۔ لہذا شاہجی میاں کو اعلیٰ حضرت نہ کہو۔ (1) سوال یہ ہیکہ کسی بزرگ ولی اللہ یا عالم دین کو حضور پر نور کہنا یا کھنا کیسا ہے؟ ایسے شخص کو ہم لوگ اپنے نمازوں کا امام بنا ئیں یا نہیں؟ (۲) اعلیٰ حضرت ، صرف فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاں صاحب مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کے سوا کسی اور کو کہنے میں کوئی حرج تو نہیں؟ ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ جوصرف فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی شان اقدس گھٹانے کی غرض سے دوسرے بزرگوں کو اعلیٰ حضرت کہتا ہے۔ فقط سائل : سید محمد منظور علی بانی جامعه خوشیه شیر یہ قصبہ بھیری ضلع بریلی ۱۳ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ
الجواب: (1) حضور پر نور اولیاء اللہ وعلمائے دین کو کہنا جائز ہے اور کہا جاتا ہے یہ لقب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں اور کہنے والے کو امام بنانا جائز ہے۔ جبکہ لائق امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دوسرے بزرگوں کو بھی اعلیٰ حضرت کہنا فی نفسہ جائز ہے ۔ مگر جبکہ یہ لقب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ کے ساتھ خاص سا ہو گیا ہے اور خاص و عام انہیں کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں تو دوسرے کو اعلیٰ حضرت کہنا ایہام امر غیر مناسب ہوسکتا ہے لہذا احتراز بہتر ۔ ان کیلئے دوسرے القاب تعظیمی بولیں اور فتنہ و اختلاف سے بچیں اور اگر نیت یہ ہو کہ اعلیٰ حضرت کا لقب دوسرے بزرگ کو دے کر اعلیٰ حضرت کی شان گھٹا دیں اور ان بزرگ کی عزت بڑھا دیں تو یہ خیال خام نہ اس سے اعلیٰ حضرت کی شان گھٹے نہ ان بزرگ کی عزت ان کی بڑھانے سے بڑھے۔ نہ ایسی نیت سے وہ بزرگ خوش ہوں کہ گناہ کی نیت ہے اور گناہ کی نیت سے خدا اور رسول ناراض ہوتے ہیں۔ تو وہ بزرگ کب خوش ہو سکتے ہیں؟ ایسی نیت والوں کیلئے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے۔ عالمگیری میں ہے: ،، من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر (1) جو کسی عالم سے بے وجہ شرعی بغض رکھے اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ تو امام العلماء امام اہل سنت مجدددین وملت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بلا وجہ ان کی عداوت کتنی بدانجام ہوگی؟ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۳۴۶۰ صح الجواب تحسین رضا غفرلہ علماء کی گستاخی حرام بلکہ کفر ہے اور اگر ایسا کرنے والا تو بہ نہ کرے تو عوام مسلمین پر اس کا بائیکاٹ ضروری ہے! (1) فتاوی هندیه ، ج ۲، کتاب السير الباب التاسع ، ص ۲۸۳ ، دار الفکر بيروت