خلاف شرع حکم کی اطاعت کرنے والا گنہ گار ہے
۱۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : اگر ۲۹ رمضان المبارک کو ابر کی وجہ سے رویت ہلال ثابت نہیں ہوئی. اور کوئی مولوی یہ کہے کہ چاند ہو یا نہ ہو، میں تو کل عید کروں گا۔ اور بلا دلیل شرعی صرف اس مولوی کی دھونس میں آکر مسلمان عید کر لیں تو ایسے مولوی کا کیا حکم ہے؟ جس نے شریعت غرا پر ایسی ناپاک جسارت کی اور اس کی تقلید کرنے والوں کے بارے میں سرکار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین حق کیا حکم فرماتا ہے اور بلالومۃ لائم احقاق حق اور ابطال باطل کرنے والے مفتیان اسلام کے مبارک قلم جن کی روشنائی صبح قیامت خون شہداء کے ہم پلہ ہوگی۔ دین حنیف پر ایسی جرات کرنے والوں کے حق میں کیا فیصلہ صادر فرماتے ہیں؟ المستفتی : بدرالقادری، مرکز اسلامی، ہالینڈ بینوا توجروا
الجواب: وہ مولوی شریعت مطہرہ پر سخت جری و بے باک ہے اور سخت گناہگار مستوجب عذاب نار ہے اور جنہوں نے اس حکم خلاف شرع میں اس کی اطاعت کی وہ بھی سخت گناہگار مستوجب عذاب شدید ہیں۔ اور ان سب کا وبال بھی اسی کے سر ہے بغیر اس کے کہ ان کے عذاب سے کچھ کمی ہو۔ حدیث میں ہے سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: من سن في الاسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل اجر من عمل بها ولا ينقص من اجورهم شئ و من سن فى الاسلام سنة سيئة فعمل بها بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها ولا ينقص من اوزارهم شئ (1) یعنی جس نے اسلام میں کوئی اچھی بات نکالی اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بغیر اس کے کہ ان کا ثواب کم ہو اور جس نے اسلام میں بُری بات نکالی اس پر اس کا عذاب اور اس پر عمل کرنے والوں کا عذاب ہے بغیر اس کے کہ ان کے وبال میں کمی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) مسلم شریف، ج ۲، ص ۳۴۱ باب من سن سنة حسنة، مجلس برکات، مبارکپور اعظم گڑھ