کرامات اولیاء اور کعبہ کا حضرت رابعہ بصری کے پاس طواف کے لیے جانے کا واقعہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ( طواف رابعہ بصری کو خود گیا کعبہ ) حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیھا خانہ کعبہ کے طواف کو تشریف لے گئے منازل طے کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرتے ہوئے بوجہ ایام ماہواری حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیھا نے قیام کیا حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ پہلے کعبہ شریف میں پہنچے تو کعبہ اپنے مقام پر نہیں تھا معلوم کرنے سے پتہ چلا کہ کعبہ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیھا کے طواف کو گیا ہے۔ یہ واقعہ زید عمرو کو سنا رہا تھا عمرو نے کہا چنڈ و خانہ کی خبر ہے دونوں میں جھگڑا ہونے لگا زید نے عمرو سے قطع تعلق کر لیا اس روایت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ لمستفتی : معراج الهدى عثمانی محلہ جالندھری سرائے عبد القیوم منزل ضلع بدایوں
الجواب: بعض اولیاء کرام کا طواف خانہ کعبہ نے کیا اور یہ مستبد عقلا وشرعا نہیں اور کرامات اولیاء حق ہیں عمر واگر ثبوت اس واقعہ کا زید سے مانگتا تو بجا تھا مگر برجستہ اس واقعہ کی تکذیب اسے جائز نہ تھی تو بہ کرے اور اگر تکذیب کا مبنی فساد عقیدہ ہے تو عمر و گمراہ ہے اس سے احتراز لازم ہے واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ جمادی الآخرة / ۱۴۰۲ھ صبح الجواب ۔ یہ واقعہ ثابت ہے اور اس کا انکار غلط و باطل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی