سلسلہ عالیہ مداریہ کی نسبت اور اس کے فیوض وبرکات کی شرعی حیثیت
درباره خلافت شاہ بدیع الدین مدار علیہ الرحمۃ والرضوان ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید حضرت سر کا ر قطب المدار سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ عنہ کے سلسلہ عالیہ مداریہ میں بیعت ہو کر نسبت عالیہ مداریہ حاصل کر چکا ہے اسی سلسلہ عالیہ مداریہ کی نسبت صاحب البرکات حضرت شاہ برکت اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت شاہ فضل اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعہ حاصل فرما کر اپنی نسل میں جاری فرمائی جس کا ثبوت حضرت اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کے پیر زادہ حضرت ابوالحسن نوری برکاتی رحمتہ اللہ علیہ مارہروی کی کتاب النور والیباء فی اسانید الحدیث کے صفحہ ۷۲ / پر موجود ہے جس میں حضرت موصوف رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا شجرہ جدی و مرشدی بدیعیہ مداریہ دیا ہے کیا سلسلہ عالیہ مداریہ کی نسبتیں و فیوض و برکات حاصل کرنا درست ہے؟۔ عند الشرع جواب دینے کی زحمت فرمائیں۔ المستفتی: فرحت حسین ساکن بینڈری کمر یا ضلع پیلی بھیت ۲۵ فروری ۱۹۷۹ -
الجواب: النور والیباء کی زیارت ہوئی اور اس میں سلسلہ مداریہ کی سند دیکھی مگر یہ سند سید نامیر عبد الواحد بلگرامی قدس سره السامی کی اس نقل کی ہے جو حضرت سید نا مذکور نے خود سید نا بدیع الدین مدار علیہ الرحمہ سے کی اور حضرت مدار صاحب کا واقعہ مفصل لکھا اور یہ فرمایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اخبار صحیحہ سے لکھا ہے دافع نہیں ہوسکتی۔ ممکن کہ سید نامدار علیہ الرحمہ نے اس سند میں مذکور صاحب سلسلہ کو خلافت اس قرار داد سے پہلے دی ہو ۔ اور یہ قرار داد مندرج سبع سنابل شریف بعد میں رونما ہوئی ہو اور صاحب سلسلہ مذکور فی السند کو اصلا معزول نہ فرمایا ہو یا انہیں اپنے عزل کی خبر نہ پہنچی ہو اور جب یہ احتمال قائم تو اس کے ہوتے ہوئے حکایت صریحہ مفسرہ مستندہ دفع نہیں ہو سکتی لہذا محتاطین اگر سلسلہ مداریہ سے انتساب چاہیں تو خانوادہ برکاتیہ میں ایسے شیخ سے بیعت ہو جائیں جو سلسلہ مداریہ میں بیعت کرے ماذون و مجاز سند مذکور ہو پھر یہ ہمیشہ ملحوظ رہے کہ یہ حکم محتاطین کو اس پر خود عمل کیلئے ہے نہ کہ دوسرے کو یہ جبر اس پر عمل کرانے کیلئے لہذا دوسروں سے تعرض نہ کریں اور سبع سنابل کی عبارت کو دوسروں سے الجھنے کا ذریعہ نہ بنائیں اور فتنہ وفساد سے احتراز کریں اور جو مسلک اہل سنت پر قائم اور احکام شرع پر کار بند ہے ان سے محبت سے پیش آئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرلہ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر تحسین رضا غفرلہ