اولیائے کرام و بزرگانِ دین کے لیے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے کا جواز
اولیائے کرام کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے کی تحقیق انیق کتاب وسنت کی روشنی میں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ: اولیائے کرام و بزرگان دین عظام کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنا جائز ہے یا نہیں ۔ جواب تفصیل کے ساتھ مرحمت فرمائیں ۔ فقط ۔ والسلام مع الکرام
جائز ہے اور جواز کے لیے یہی بس ہے کہ شرع مطہر سے اس کی ممانعت نہیں ۔ جو عدم جواز کا مدعی ہے بار ثبوت اس پر ہے جس سے وہ ہر گز قیامت تک عہدہ برآنہ ہو سکے گا۔ یہی نہیں بلکہ بلا دلیل محض زور زبان سے ایک امر جائز و معمول اہل سنت کو نا جائز کہہ کر اللہ ورسول پر افترا ان کے حکم سے سرتابی ان کے فرمان واجب الاذعان کی تکذیب کا وبال شدید اس کے سر پر رہے گا۔ افترا یہ کہ اللہ و رسول نے رضی اللہ عنہ کہنا منع نہ فرمایا نہ کسی گروہ کے لیے خاص فرمایا اور یہ ممانعت کا قائل ۔حکم سے سرتابی یہ کہ بے دلیل بزور زبان کسی شے کو حلال و حرام کہنا ممنوع فرمایا گیا۔ قال تعالیٰ: وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلٌ وَهَذَا حَرَامٌ اور یہ بے دلیل حرام کہنے پر مصر ۔ فرمان کی تکذیب یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم فرماتے ہیں: ماراه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن جسے مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان خدا کا فرمان ہے۔ قال تعالیٰ: إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى اور حضور جسے اچھا فرما ئیں یہ اسے ناجائز کہے۔ یہ تکذیب خدا ورسول ہوئی ۔ پھر حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لاتجتمع امتى على ضلالة یعنی میری امت گمراہی پر اکٹھی نہ ہوگی ۔ تو جو کسی معمول اہل سنت کو بے دلیل ناجائز کہتا ہے وہ امت محمدیہ کو گمراہ کہتا ہے۔ حالانکہ حضور علیہ السلام فرما چکے ۔ میری امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی۔ یہ خدا ورسول کی تکذیب بالائے تکذیب ہوئی۔ اور یہ طریقہ سنیہ اہل سنت و جماعت کو چھوڑنا اور خد اور سول کی دشمنی مول لینا اور جہنم کی راہ لینا ہے۔ قال تعالیٰ: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (۱) اور جو اللہ ورسول سے دشمنی کرے اور مسلمانوں کی راہ سے جدا چلے ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھر گیا اور جہنم میں جھونک دیں گے اور وو برا ٹھکانہ ہے۔ پھر قرآن عظیم خود صحابہ اور ان کے جملہ اتباع کو بالعموم بے تخصیص بشارت دے رہا ہے: رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (۲) تو بزرگان دین کے لیے رضی اللہ عنہم کہنا قرآن عظیم کی اقتدائے حمید ہے۔ جسے وہابیہ بزور زبان ناجائز و حرام کہتے ہیں تو ان کا یہ طعن اہل سنت پر نہیں بلکہ خدا کی بارگاہ میں اساءت ادب ہے۔ بالجملہ بزرگان دین کے لیے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنا جائز اور اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی تخصیص کا دعویٰ غلط و نا مسموع علمائے اسلام اپنی کتب میں تابعین و تبع تابعین کے لیے رضی اللہ عنہم تحریر کرتے آئے ہیں۔ تبیین الحقائق زیلعی میں ہے: والفرق لابی حنیفۃ رضی الله عنه (۳) اسی میں ہے: وذكر الحاكم ابو محمدرواية عن ابي حنيفة رضى الله عنهما (۲) (۱) سورة النساء: ۱۱۵ (۲) سورة البينة: ٨ (۳) تبيين الحقائق، شرح كنز الدقائق، كتاب الوصايا، باب وصية الذمی ، ج ۷، ص ۴۲۱، دار الكتب العليمية بيروت (۴) تبیین الحقائق، شرح کنز الدقائق، کتاب الخنثی، مسائل شتی ، ج۷، ص ۴۴۷ ، دار الكتب العلمية بيروت ورضی الله تعالى عن اصحاب رسول الله وعن التابعين وتابع التابعين لهم باحسان الى يوم الدين ) اسی میں ہے: بیضاوی میں ہے: و عن ابی حنیفۃ رضی الله عنه (۲) حاشیہ میرسید شریف علی الکشاف میں ہے: و المشهور من مذهب ابي حنيفة رضى الله عنه و اتباعه (۳) رد المحتار میں ہے: قوله (التسترى) امام اعظم رضی الله عنه (۴) اسی میں ہے: لا سيما الامام الشافعی رضی الله عنه (۵) در مختار میں ہے: ومماقال فيه ابن المبارک رضی الله عنه (1) حدیقہ ندیہ میں ہے: اتباع النبی صلی الله علیه وسلم والصحابة والتابعين و ائمة الهدى رضى الله عنهم (ع) تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق كتاب الفرائض ، باب التصحيح فى الفرائض، ج۷، ص ۵۱۲ دار الكتب العلمية بيروت تفسیر بیضاوی، ج ۱، ص ۱۲ سوره فاتحه مطبع دار الكتب العلميه بيروت (۳) حاشیہ میرسید شریف علی الکشاف (۴) رد المحتار، ج ۱، المقدمه ، ص ۱۴۷ ، دار الكتب العلميه بيروت رد المحتار، ج ۱، ص ۱۴۹ ، المقدمه مطلب يجوز تقليد المفضول ، دار الكتب العلميه بيروت در مختار ج ۱، ص ۱۵۷ ، المقدمه ، دار الكتب العلميه بيروت (۵) (۷) الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية الفصل الثاني في اقسام البدعة ج ۱، ص ۳۰۵ مطبع دار الكتب العلمية بيروت نہایۃ الزین میں ہے: يجب على من لم يكن فيه اهلية الاجتهاد المطلق ان يقلد في الفردواحدامن الائمة الاربعة المشهورين وهم الامام الشافعى والامام ابو حنيفة والامام مالك والامام احمد ابن حنبل رضی الله عنهم‘ (1) اسی لیے تنویر و در مختار میں تصریح فرمائی کہ صحابہ و تابعین بزرگان دین وغیر ہم کے لیے رضی اللہ عنہم کہنا جائز ہے۔ وهذا نصه ويستحب الترضى للصحابة وكذا من اختلف نبوته والترحم للتابعين ومن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الاخيار كذا يجوز عكسه الترحم للصحابة والترضى للتابعين ومن بعدهم على الراجح (۲) حدیقہ ندیہ میں فرمایا : هل يجوز عكسه؟ فقال بعضهم: لا يجوز بل الترضى مخصوص بالصحابة وقال النووي: هذا غير صحيح بل الصحيح الذي عليه الجمهور استحبابه و دلائله اكثر من ان تحصی (۳) آخر میں دیو بندیوں کے مستند مولوی عاشق الہی میرٹھی کی چند عبارتیں پیش کر دینا مناسب۔ تذكرة الرشيد ، ج ۲، ص ۲۲ میں ہے: ” جس زمانہ میں احقر حضرت مرشد نا مولا نا محمد رفیع الدین صاحب نقشبندی مجددی خلیفہ حضرت شاہ عبد الغنی مجددی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر رہتا تھا (۴) اسی میں صفحہ ۲۴ پر ہے: اور مقولہ حضرت مجددالف ثانی قیوم ربانی شیخ احمد سرہندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۵) (1) نهاية الزين، ج ۱، ص ۷ شرح خطبه مطبع دار الفکر بيروت (۲) در مختار مع تنویر الابصار، ج ۱۰، باب الخنثی ، مسائل شتى، ص ۴۸۵ ، دار الكتب العلميه بيروت (۳) الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية فصل معنى الصلوة لغة وشرعاج ۱، ص ۴۷ ، دار الكتب العلمية بيروت (۴) تذکرۃ الرشید، ج ۲، ص۴۱، مطبع دار الکتاب دیو بند (۵) تذکرۃ الرشيد، ج ۲، ص ۴۴، مطبع دار الکتاب دیوبند صفحہ ۲۵ پر ہے: اولیائے کرام بنایا نہیں ،، الى آخره ماقال رضی اللہ تعالی عنه (۱) والله تعالى اعلم وعلمه اتم واحكم وصلى الله تعالى على سيدنا محمد الفرد العلم وآله وصحبه ونجوم الهدى ومصابيح الظلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۵ / ربیع الآخر / ۱۴۰۱ھ الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفی رضا خاں غفرلہ قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی