فرضی مزار بنا کر اس پہ چادر چڑھانا، عرس وفاتحہ کرنا جائز نہیں!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ سے متعلق کہ: ضلع سیتا مڑھی میں ایک موضع پند راہی ہے جہاں دو سال سے نامعلوم ولی کا عرس نہایت زور سے منایا
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر واقعہ یہ ہے کہ اس جگہ کوئی قبر ہے جس میں کسی ولی کا دفن ہونا [ کم از کم ] مظنون ہے تو وہاں چادر چڑھانا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور اگر محض شک ہے جس کی کوئی وجہ سوائے وہم کے نہیں تو اس کی زیارت سے سخت پر ہیز ضرور ہے ( تو نہ اس کی زیارت کو جائیں نہ عرس فاتحہ کریں ) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا قادری از هری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۶۳–۴۶۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
سیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور مدار صاحب کے حوالے سے چند اعتراضات کے جوابات
باب: کتاب العقائد
اولیائے کرام و بزرگانِ دین کے لیے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے کا جواز
باب: کتاب العقائد
سخاوت حسین نیپالی کی توبہ، اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی اور امامت کا معاملہ
باب: کتاب العقائد
غوث پاک اور اعلیٰ حضرت کی توہین کرنے والوں کی بزم میں شرکت اور افیون استعمال کرنے والے کے بارے میں حکم
باب: کتاب العقائد
وسیلہ کی لغوی و شرعی تعریف، بزرگانِ دین کا وسیلہ، محفل میلاد میں قیام اور فاسق کے احکام
باب: کتاب العقائد