وسیلہ کی لغوی و شرعی تعریف، بزرگانِ دین کا وسیلہ، محفل میلاد میں قیام اور فاسق کے احکام
قبله محترم جناب فقیه و مفتی صاحب دامت برکاتہم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ چند مسائل درج ذیل ہیں برائے کرم بحوالہ قرآن کریم و حدیث شریف مطلع فرمائیں تا کہ معترضین کو مدلل جواب دیا جائے۔ (1) وسیلہ کے معنی کیا ہیں اور وسیلہ کی تعریف کیا ہے۔ اور وسیلہ فرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے اور وسیلہ کا طریقہ عمل حدیث شریف یافقہ حنفی کی مستند کتاب سے ثابت فرمائیے ۔ (۲) جن بزرگان دین سے ہم کو دین ملا آج وہ ہماری نظروں کے سامنے موجود نہیں ہیں ان سے وسیلہ حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ (۳) اگر کوئی شخص محفل میلاد میں کھڑے ہو کر سلام نہیں پڑھتا بلکہ بیٹھے بیٹھے درود شریف پڑھتار ہے اور کھڑے ہو کر سلام پڑھنے پر مستند دلیل چاہتا ہے۔ (۴) زید صرف جمعہ کی نماز پڑھتا ہے رمضان المبارک کے روزہ بھی نہیں رکھتا ہے چہرہ پر داڑھی بھی نہیں ہے اس کے ساتھ عوام یا علماء کا گلا ملارہنا از روئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ (۵) وہ حدیث پاک کہ جس کا مفہوم ہے کہ جس کو پانچوں وقت پابندی سے نماز کے لئے مسجد جاتے ہوئے دیکھو ایمان والا ہونے کی گواہی دو۔ اگر مسجد جانے والے نمازی کو کافر کہا جائے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ نعوذ باللہ اس حدیث شریف کے ضعیف ہونے کا احتمال تو نہیں ہے؟ مستفتیان : محمد نعیم ، حافظ لئیق احمد خان ، حافظ ظہیر احمد، حافظ عزیز الدین وغیرہ وغیرہ حافظ محد نعیم صاحب شرافت اللہ وفا سکولوک سلون رائے ، بریلی
الجواب: (1) وسیلہ وہ ذات یا عمل ہے جس کے ذریعہ غیر کی قربت حاصل کی جائے یہ مطلق وسیلہ کی لغوی تعریف ہے اور وسیلہ شرعیہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے تقرب کے لئے کسی ذات یا عمل کو ذریعہ بنائے ۔ شفاء السقام میں صحاح جو ہری سے ہے: اما الوسيلة : فقال الجوهرى الوسيلة ما يتقرب به الى الغير، والجمع الوسيل والوسائل، والتوسيل والتوسل واحد يقال وسل فلان الى ربه وسيلة، وتوسل اليه بوسيلة اذا تقرب اليه بعمل (1) اور اس معنی کر وسیلہ غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے۔ اور خدا اس سے منزہ وتعالیٰ ہے کہ اس سے اوپر کون ہے جس کے لئے وہ دوسرے کو وسیلہ بنائے تو وسیلہ کو شرک کہنا وہابیہ کی حماقت ہے اور انہیں معاذ اللہ کم از کم دو خدا مانالازم بلکہ خود خدا کو مشرک کہنا ہے کہ وسیلہ ڈھونڈنے کا حکم اس نے دیا ہے۔ وہ فرماتا ہے: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ (٢) اور اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور وسیلہ ڈھونڈنے والوں کی اس نے تعریف فرمائی فرماتا ہے: أُولَيكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ (۳) وہ نیک بندے جنہیں یہ کا فر پوجتے ہیں وہ تو خود اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون اللہ سے زیادہ قریب ہے۔ تو ان نادانوں کے نزدیک معاذ اللہ خدا مشرک شرک گرمشرکوں کا ثنا خواں ٹھہرا اور جملہ اعمال صالحہ سے توسل شرک قرار پایا جس کے دام میں یہ خود بھی گرفتار ہیں تو خاص اعمال کو وسیلہ جاننا اپنے اس مطلق جرنیلی حکم سے عدول اور اپنے کفر خلاصی کی تدبیر ہے جو فضول ہے۔ بھلا کوئی ان ہوشیاروں سے پوچھے تو سہی کہ خدا سے تم کیا سند لائے ہو کہ تمہارے روزہ نماز تو وسیلہ ہوں اور شرک نہ ہو اور ہم انبیاء اور اولیاء کی مقدس ذوات کو وسیلہ جانیں تو یہ شرک ہو جائے حاشا وکلا ہرگز سند نہیں لا سکتے ۔ بلکہ اپنی ہوس باطل سے قرآن عظیم کے حکم مطلق کو مقید کر کے اس کو بدلنا چاہتے ہیں قرآن عظیم نے مطلق حکم فرمایا اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈ و عمل یا ذات سے مقید نہ فرمایا تو اسے اعمال سے مقید کرنا مطلق کو بدلنا ہے جو تحریف (1) شفاء السقام الباب السادس في كون السفر اليها قربة ص ۲۷۸ ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) سورة المائدة : ۳۵ (۳) سورة الاسراء:۵۷ ہے بلکہ نا سمجھ کیا جانیں کہ خود اسی آیت میں ذوات قدسیہ سے توسل پر وہ دلیل قائم جو شاہ عبد الرحیم صاحب قدس سرہ والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے افادہ فرمایا اور وہ یہ کہ وسیلہ سے ایمان مراد نہیں کہ پہلے يايها الذين آمنوا " فرمادیانہ عمل صالح مراد کہ اتقوا اللہ “ اللہ سے ڈرو، میں وہ بھی آ گیا۔ نہ جہاد کہ بعد میں ”و جاهدوا فی سبیلہ فرمایا تو متعین ہے کہ اس سے مراد بیعت مرشد ہے یہ فائدہ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی سے وہابیوں کے مولوی خرم علی بلہوری نے القول الجمیل میں نقل کیا۔ (۱) علاوہ ازیں بکثرت دلائل سے توسل به ذوات ثابت جنگی اس جگہ گنجائش نہیں اور منکر کو وہی کافی جو اس کے اپنے گھر کی ہے۔ اور مطلق وسیلہ فرض بھی ہوتا ہے واجب بھی اور سنت بھی اور حرام کا وسیلہ و ذریعہ حرام اور مکروہ کا مکروہ ہوتا ہے اور وسیلہ شرعیہ میں وہی تین قسمیں ممکن ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بزرگان دین کو وسیلہ بنانا یہ ہے کہ دعاء میں ان کا واسطہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان کے وسیلہ سے دعا مانگے ان کے لئے نذرو نیاز کرے ان کے طریقہ مرضیہ کو اپنائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کھڑے ہو کر سلام پڑھنے کی دلیل چاہنا حماقت ہے وہ قیام کو ممنوع جانتا ہے تو دلیل اس کے ذمہ ہے ۔ وہ دکھائے کہ شرع نے کہاں منع فرمایا ہے۔ قرآن عظیم نے درود وسلام کا حکم مطلق دیا۔ کسی حالت کی تخصیص نہ کی تو جس طرح کھڑے بیٹھے درود بھیجا جائے ، جائز ہے اور کھڑے ہوکر اولیٰ ہے کہ اس میں تعظیم زائد ہے اور تعلیم نہی کو منوع نہ جانے گا مگر دشمن دین۔ واللہ تعالٰی اعلم (۴) نا جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۵) حدیث صحیح ہے اور وہ استقامت عقیدہ سے مشروط ہے ورنہ منافقین جو حاضر بارگاہ نبوی تھے کیوں نکالے جاتے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله / ۲۳ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ۔ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل دوسری فصل بیعت کی سنیت کا بیان ص ۲۳، مکتب رحمانی اردو بازار لاہور