محبوبان خدا سے استمداد و توسل قرآن حکیم سے ثابت ہے
علمائے دین شرع متین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ : ایک صاحب نے بڑے مولوی صاحب کے قرآن کے ترجمہ پر اعتراض کیا اور یہ کہا کہ ترجمہ انکا صحیح نہیں ہے اور ترجمہ اشرفعلی تھانوی کالا یا اس بات پر کہا کہ چلومولوی صاحب کے یہاں، طے کرنے کے بعد سیلانی والی مسجد میں ہم لوگ چلے گئے ۔ وہاں مولوی صاحب نے کہا کہ ترجمہ ٹھیک ہے۔ ترجمہ یہ تھا وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں۔ خود ہی اپنے رب کی طرف خود وسیلہ ڈھونڈتے ہیں پارہ - ۱۵، رکوع - ۵۔ اس بات پر یہ بات نکلی کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے تو یہ بات آئی کہ مزاروں پر جا کر اپنی حاجتیں پوری کرانے کو کہتے ہیں۔ تو ایسے میں ان سے کہنا بیکار ہے۔ کیونکہ بائیسواں پارہ ۱۴ / رکوع میں ہے قبر میں پڑے ہووں کو سنانے والے نہیں۔ تو کہا کہ کافر اگر بت کو پوجیں تو وہ کافر اور مسلمان اگر مزاروں پر جا کر اپنی حاجتیں بیان کریں تو کوئی حرج نہیں؟ تو مولوی صاحب مسجد سیلانی نے جواب دیا کہ کافر پتھر کو پوجتے ہیں تو کیا مسلمان سنگ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔ تو بکر نے اس سے کہا یہ ہمارے حضور کی تعلیم ہے انہوں نے جواب دیا ان کی رامائن میں بت کی پوجا آئی ہے۔ مزار والے ہماری پکار سنتے ہیں۔ ایسے مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ آپ حدیث و قرآن سے سب باتوں کا جواب دو اگر ذرا بھی رعایت برقی تو آپ بھی خدا کے یہاں پکڑاؤ گے۔ حفظ الکریم کٹ کو ئیاں، بریلی
الجواب: معترض نے جس آیت کریمہ سے اپنے مدعائے فاسد پر دلیل چاہی ہے وہ اس پر حجت ہے اس کے لئے ہرگز وہ دلیل و حجت نہیں کہ آیت کریمہ صاف صاف توسل کا جواز بتا رہی ہے اور اسی سے ظاہر کہ توسل محبوبان خدا کی محبوب سنت ہے اور اسی آیت کریمہ سے اولیاے کرام وصالحین سے جواز استمداد ثابت اور یہ بھی ظاہر کہ ان سے اور نہ صرف ان سے بلکہ عالم میں ہر غیر اللہ سے استمدا دبطور وسیلہ ہی ہے تو توسل واستعانت بواسطہ جدا جدا نہیں ۔ اور معین حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور استمداد بایں معنیٰ ہرگز شرک نہیں بلکہ قرآن عظیم سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ یعنی مدد چاہو صبر سے اور نماز سے۔ اور ہمیں حکم دیا: تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى یعنی نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ بلکہ استعانت بالواسطہ کو شرک کہنا معاذ اللہ سخت غارتگری ایمان ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ خدا شرک کا حکم دینے والا بلکہ خود مشرک ٹھہرے اور جب توسل بحکم الہی ثابت اور ہم ظاہر کر آئے کہ توسل و استعانت بہ معنی مذکور ایک ہیں تو خود ظاہر کہ اللہ نے جسے ہمارا وسیلہ بنایا ضرور اسے ہمارا مد و معاون اور اپنی اعانت کا مظہر بنایا اسی لئے ارشاد فرمایا: وَلَوْلا دَفْعُ الله النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ - الآية یعنی اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ فرماتا۔ الخ۔ آیت کریمہ صاف صاف ارشاد فرمارہی ہے کہ انسانوں میں بعض انسان بعض کے دافع ہیں۔ اور اعانت و مدد کس چیز کا نام ہے؟ اور جس سے حالت حیات میں مدد چاہی جاسکتی ہے۔ اس سے بعد وفات بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں : من يستمد به في حياته يستمد به بعد وفاته تو وہابیہ کا یہ سمجھنا کہ اولیائے کرام بعد وفات مدد نہیں کر سکتے محض بلا دلیل ہے۔ وہ بتائیں کہ ان کا دعوی کون سی آیت یا حدیث سے ثابت ہے اور بعد وفات اولیاء سے استمداد کو شرک کہنا بھی محض باطل ہے زندوں سے استمداد جائز ، اور یہ خود بھی کرتے ہیں اور اولیاء سے بعد وصال ان کے دھرم میں شرک۔ گویا یہ خدا سے سند لے آئے ہیں کہ زندے خدا کے شریک نہیں ہو سکتے ہیں اور مُردے شریک ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی اگر شرک پر اڑیں تو اپنے امام الطائفہ کو مشرک کہیں جو صر الا مسلم میں رقمطراز ہیں : حق جل و علا بذات پاک خود بواسطه ملائکہ عظام یا ارواح مقدسه بسبب برکت توسل به قرآن محافظت طالب خواهد نمود (۱) اور لکھتے ہیں : ائمہ ایں طریق واکا بر ایں فریق در زمرہ ملائکہ ہدایتہ الامر که در تد بیر امور از جانب ملا اعلی ملهم شدہ در اجرائے آں می کوشند معدوده اند (۲) وو اور اسی میں لکھتے ہیں کہ : در سلطنت سلاطین و امارت امراء ہم ہمت ایشان را د خلے ہست که بر سیاحین عالم ملکوت مخفی نیست (۳) اور ان کے چچا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں: دد بعض خواص اولیاء را که جارجه تکمیل و ارشاد بنی نوع خود گردانند در میں حالت تصرف در دنیا داده واستغراق آنها بہت کمال وسعت مدارک آنها مانع توجہ بائیں سمت نمی گردد (۳) اور شاہ ولی اللہ جد امام الطائفہ حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں: وو ربما اشتغل هولاء باعلام كلمة الله ونصر حزب الله وربما كان لهم لمة خير بابن آدم (ه) وہابیہ بتائیں حکم شرک سے یہ حضرات کب بچیں گے اور جب یہ نہ بچیں گے تو امام الطائفہ اور طائفہ وہابیہ کیسے شرک سے بچے گا۔ اور آیت { وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مِّن فِي الْقُبُورِ } () کے تحت وارد ہے۔ جامع البیان میں ہے: (۱) صراط مستقیم ص ۱۳۵ ، باب چهارم در بیان طریق سلوک راہ نبوت مطبع قیومی واقع کا نپور در راہ (٢) صراط مستقیم ص ۲۹ مطبع قیومی واقع کا نپور (۳) صراط مستقیم ص ۵۳ مطبع قیومی واقع کا نپور (۴) تفسیر عزیزی شاہ عبدالعزیز تحت والقمر اذا اتسق ص ۲۰۶، مطبع سلیم بکڈ پولال کنواں دہلی (۵) حجة الله البالغة ج ۱، ص ۱۱۱ ، باب اختلاف احوال الناس في البرزخ، مطبع دار احیاء العلوم بيروت 1 (۶) سورة فاطر: ۲۲ اى الكفار المصرين فانهم كالاموات فى عدم الانتفاع بالموعظة ) اسے اولیاء کے حق میں تلاوت کرنا بے محل ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ بے محل آیت کریمہ کی تلاوت کر کے اپنا مدعی ثابت کرنا چاہیں ورنہ کیا یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی جاسکتی : كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِه (۲) واللہ تعالیٰ اعلم اور ہمارے اس فتوے سے متصرف کی اس جاہلانہ بکو اس کا جو اس نے ان الفاظ میں کی کہ اگر کا فربت کو پوجیں تو وہ کافر اور مسلمان۔ الخ “ جواب ظاہر ہے اور وہ یہ کہ حاجت ہرگز اولیاء کی عبادت نہیں اور جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ انہیں مستقل قدرت و تصرف مان کر کرتے ہیں حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی فتاوی عزیزی میں فرماتے ہیں: پرستش این چیز ها بنا بر اعتقاد استقلال و قدرت است که کفر محض است (۳) امام کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ تم بتوں کی پوجا اور بوسہ قبر یا صاحب مزار سے دعا کو برابر جانتے ہو؟ یہ خیال غلط ہے بوسہ حجر اسود کا بھی دیا جاتا ہے اور اگر بوسہ بھی کوئی ایسا امر ہے کہ غیر اللہ کے لئے شرک و کفر ہے تو تمہیں چاہئے کہ حجر اسود کو بوسہ نہ دو بزرگان دین سے جو حاجت و دعا کی جاتی ہے وہ بطریقہ توسل ہے جس طرح کسی بزرگ سے حیات ظاہری میں دعا وحاجت طلب کی جاتی ہے حیات ظاہری کے بعد کونسا زہر گھل گیا کہ بزرگان دین سے دعا و درخواست ناجائز ہو گئی سائل اس فرق کو ملحوظ رکھے۔ واللہ الھا دی۔ وھو تعالی اعلم الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۲ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۹ھ