اولیائے کرام بعد وصال بھی زندہ ہیں، مزارات پر چادر چڑھانا، وہابی دیوبندی اور لفظ یا کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) زید کہتا ہے ولی بزرگ کو اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ دو رکعت نماز ادا کر سکیں اور تلاوت قرآن کر سکیں لیکن زید مثال اس طرح دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ ایک شخص نوکری کر رہا ہے اور وہ ریٹائر ڈ ہو گیا وہ ریٹائرڈ ہو کے کیا کسی سے کچھ بھی کسی کو دے یا دلا سکتا ہے؟ اور جو نوکری کر رہا ہے وہ تو کسی کو کچھ دے اور دلا سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بزرگان دین اور ولی تو گزر گئے اور مٹی میں مل گئے ، اب وہ کسی کو کیا دلا سکتے ہیں اور دے سکتے ہیں؟ کیا زید کا یہ خیال صحیح اور درست ہے؟ (۲) مودودی بانی جماعت اسلامی، اشرف علی تھانوی، اسمعیل دہلوی، رشید احمد گنگوہی ، خلیل احمد انبیٹھوی ، قاسم نانوتوی وغیرہ وغیرہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟ (۳) دیوبندی کے پچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ دیوبندی مولوی کو برا بھلا کہنا کیسا ہے؟ زید اکثر کہا کرتا ہے کہ دیوبندی علماء کا فر ہیں کل دیو بندی دیو کے بندے ہیں اور کافر ہیں کیا زید کا ایسا کہنا صحیح ہے؟ سنی کے علاوہ دوسرے عقیدہ والوں کو مثلاً وہابی ، قادیانی وغیرہ وغیرہ جو فرقے ہیں ان کو کافر کہہ کر پکارنا جائز ہے یا نا جائز ہے؟ (۴) مزار پر چادر چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ مزار پر چادر نہیں چڑھائی جاتی ہے بلکہ وہ ایک طرح کا غلاف ہے وہ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے چادر چڑھانے کو منع فرمایا ہے، کیا یہ صحیح و درست ہے؟ (۵) زید کہتا ہے کہ بزرگان دین و صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے ساتھ لفظ یا لگانا شرک ہے وہ کہتا ہے کہ لفظ یا تو صرف خدا کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لفظ یا لگادے تو کوئی بات نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سنی شرک کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ یا خواجہ ہم کو فلاں چیز دے، مثلاً دولت دے علم دے، اولا د دے اور یا خواجہ غریب نواز کی رٹ لگاتا ہے وہ شرک کرتا ہے اور وہ مشرک ہے۔ کیا زید کا ایسا خیال صیح و درست ہے؟ المستفتی عبدالمالک قادری، دربھنگہ ضلع ، بہار
الجواب: (1) زید بے قید کا قول وہابیہ ملاعنہ کی جہالتوں سے ایک جہالت ہے۔ اولیائے کرام بعد وصال جماد محض نہیں ہو جاتے بلکہ زندہ رہتے ہیں اور روح تو بعد موت کسی کی نہیں مرتی تو اولیاے کرام کومٹی کا ڈھیر سمجھ لین فلاسفہ و مشرکین سے بھی گئی گزری مت ہے۔ اولیائے کرام کو تصرف کی قدرت دی گئی ہے اور یہ امر خود امام الوہابیہ کومسلم ہے، وہ صراط مستقیم میں رقمطراز ہے: بالجملہ ائمہ ایں طریق واکابر ایں فریق که در زمره ملائکه مد برات الامر که در تد بیر امور از جانب ملا اعلی ملہم شده در اجرائے آں می کوشند معدودہ اند پس احوال این کرام براحوال ملائکہ عظام قیاس باید کرد (۱) دیکھو کیسا صاف کہہ رہا ہے کہ ائمہ طریقت ملائکہ مدبرات الامر کے زمرہ میں شمار ہیں کہ فرشتوں سے الہام پا کر دنیا کے امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ اور یہ مثال جو آپ نے دی کہ جو ریٹا پر ہو گیا۔ الخ، سخت توہین آمیز ہے اور یہ جو کہا کہ وہ دورکعت نماز یا تلاوت قرآن نہیں کر سکتے محض بہتان ہے۔ شرح الصدور علامہ امام جلال الدین سیوطی میں بکثرت روایات، اولیا کی نماز و تلاوت کی بابت ذکر فرمائیں ہیں فلیر جع ۔ اور مزید تفصیل کے لئے الا ہلال بفیض الاولیاء بعد الوصال اور برکات الامداد لا بل الاستمداد اور الامن والعلی رسائل سید نا اعلیٰ حضرت دیکھو۔ (۲) اسماعیل دہلوی اکثر فقہاء کے قول پر اپنے اقوال کفریہ سے کافر ہے اور متکلمین و محققین حنفیہ وغیر ہم فقہاء کے مسلک پر وہ گمراہ بددین ہے اور اس کی تکفیر سے مثل یزید پلید کف لسان کیا ہے۔ رشید احمد خلیل احمد واشر فعلی و قاسم نانوتوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ خدائے جل وعلا کی صریح تو ہین لکھ کر چھاپی ہے اور مسئلہ ختم نبوت کے منکر ہو کر ایسے کا فرومرتد ہو گئے کہ علمائے حرمین شریفین وغیر ہمانے فرمایا: من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۲) یعنی جو انہیں ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر کا فرنہ مانے یا عذاب میں ان کے شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ مودودی دیو بندی سرغنوں کی تکفیر نہیں کرتا اور مطلقاً حدیث وتفسیر کا منکر ہے دیکھو تنقیحات اور (1) صراط مستقیم ص ۲۹ مطبع قیومی واقع در کانپور (۲) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی اس کے علاوہ بھی بہت سے عقائد کفریہ رکھتا ہے اس کا بھی وہی حکم ہے جود یو بندیوں کا ہے۔ دیو بندیوں کے متعلق تفصیلی فتوی حسام الحرمین میں دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیو بندی قادیانی رافضی اور ہر مرتد کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ ہوتی ہی نہیں بلکہ ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوتے ہوئے انہیں امام بنا نا کفر ہے۔ ردالمحتار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا (۱) در مختار میں ہے: تبجيل الکافر کفر (۲) ہر وہابی گمراہ ہے اور ان پر بھی بقول اکثر فقہاء حکم کفر ہے۔ لہذا ان کے پیچھے بھی نماز منع ہے۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا: الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۳) قادیانی، دیوبندی اور جو بھی ضروریات دین کا منکر ہو، اسے کافر کہا جائے گا اور سمجھا جائے گا اور اس سے نفرت کی جائے گی اور اوروں کو دلائی جائے گی۔ (۴) مزارات اولیائے کرام پر چادر بقدر تبرک و تعظیم اور اس نیت سے کہ لوگ جائیں یہ اولیا کے مزارات ہیں تو تعظیم بجالائیں مستحسن ہے۔ قال تعالیٰ: ذلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ (۴) امام عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی نے ”کشف النور عن اصحاب القبور“ میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر علامہ شامی نے ” عقود دالدریہ میں اسے نقل کیا اور مقرر رکھا۔ زید کا یہ کہنا کہ حدیث سے چادر ڈالنا ثابت نہیں ، حرمت چادر کی دلیل نہیں بن سکتی کہ منع بھی (۱) الدر المختار کتاب الصلاة، باب الامامة، ج ۲، ص ۳۰۱ ۳۰۰ مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲، كتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۰۴ ، باب الامامة احياء التراث العربي بيروت (۴) سورة الاحزاب : ۵۹ وارد نہیں ہے اور کوئی بھی شرع مطہرہ سے بے ممانعت صریحہ حرام نہ ہوگی۔ اور یہ کہنا کہ حضور کے مزار پر چادر نہیں ہے بلکہ ایک قسم کا غلاف ہے اس کے لئے حجت مفیدہ نہیں۔ اس کے طور پر وہ بھی حرام ہونا چاہئے کہ حدیث میں اس کا بھی ثبوت نہیں۔ (۵) اولیائے کرام و صحابہ کرام و انبیائے عظام سب کو یا‘ کے ساتھ پکارنا جائز ہے۔ قرآن کریم میں بکثرت ندائے غیر اللہ وارد ہے۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ ۱۳ رجگہوں پر ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ۸۹ر جگہوں پر ہے يَأْيُّهَا الْإِنسَانُ ۲ رجگہوں پر ہے يَأَيُّهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ سورة فجر - ۲۷ اور زید کا دعویٰ شرک باطل ہے اس کے دعوے سے خود خدا کا مشرک ہونالازم آتا ہے کہ اس نے نبی علیہ السلام، مسلمانوں کو ، انسان کو نفس مطمعنہ کو پکارا۔ اور یہ کہنا کہ حضور کے ساتھ لفظ یا لگانا کوئی بات نہیں ، اس کی حماقت ہے اس سے کوئی پوچھے کہ جب تیرے نزدیک کسی کو پکارنا شرک ہے تو کیا نبی کے لئے معاذ اللہ خدا کا شریک ہونے کی تیرے پاس کیا کوئی سند ہے؟ یا تیرے یہاں شرک کسی کے ساتھ مخصوص ہے کہ اس سے یہ معاملہ کر و تومشرک اور دوسرے سے کرو تو ایمان۔ ان ہذا الا تفصیل کے لئے رسالہ مبارکہ انوار الانتباه فی حل ندائے یا رسول اللہ مصنفہ اعلیٰ حضرت ہذیان ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دیکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله