سجدہ تعظیمی کی حرمت اور جمہور علماء کے معتمد قول کی اتباع کا وجوب
ناجائز ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ نیز مولانامحمد شمیم الزماں قادری نے ان کی سوانح حیات کو قلمبند کیا ہے جس میں ان کی زندگی کے صحیح واقعات اور مشہور و مستند کرامات درج ہیں کیا اسے تلف کرنا ضروری ہے؟ واضح رہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی کتاب ”اخبار الاخیار سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض صوفیا کا یہ عمل رہا ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جمہور علما اس کی حرمت کے قائل ہیں اور حرمت کا فتویٰ بھی دیا جاتا ہے اگر حضرت مولانا شاہ محمد یونس صاحب علیہ الرحمہ سے دیدہ و دانستہ جمہور کے خلاف جواز کا قول صادر نہ ہوا تو کیا ایسی صورت میں ان کی تفسیق جائز ہے؟ مستفتی: فیروز احمد ، دارالعلوم قا در یہ حبیبیہ کا فورنگی فیلان ، ہورہ
سجدہ تعظیمی جمہور علماء کے نزدیک انبیاء و اولیاء کے لئے ناجائز وحرام ہے اور ہم پر جمہور کی اتباع فرض ہے خصوصا جبکہ وہی قول معتقد ہے اس کو علمائے اسلام نے ترجیح دی تو اس کی مخالفت اگر چہ کسی دلیل سے ہو یا استظہا ر سے ہونا جائز وحرام ہے۔ لہذا کسی کو برخلاف قول معتمد فتوی دینا جائز نہیں۔ در مختار میں ہے: الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع (1) اسی میں ہے: و اما نحن فعلينا اتباع مارجحوه وماصححوه كما لو أفتوا فى حياتهم (۲) طحطاوی علی الدر میں اس کے تحت ہے: اى كاتباعنا لهم لو افتوافى حياتهم ونحن موجودون و هذا اشارة الى التسليم وعدم المعارضة باستظهار او بدلیل آخر (۳) (1) الدر المختار، ج ۱، ص۱۷۷ ۷۶ا المقدمه، دار الكتب العلميه بيروت (۲) الدر المختار، ج ۱، ص ۱۸۱ ، ۱۸۰ ، المقدمه ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ۱، ص ۵۲ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت لہذا ان کی ایسی تعریف جس سے ان کے اس فتویٰ کی تائید نکلے جائز نہیں اور فاتحہ پڑھنے میں حرج نہیں اور ان کے واقعی محاسن بیان کرنا بھی جائز ہے اور اب جبکہ وہ گزر چکے ان کی تفسیق سے کیا حاصل؟ لہذا اس سے باز رہیں۔ خصوصا جبکہ فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی