نکاح خوانی پر جھگڑا اور امامت چھوڑنے کا حکم
سوال
(۲) محلہ کے ایک شخص نے نکاح خواں سے جو کہ عرصہ چالیس سال سے زائد سے نکاح پڑھا رہا ہے اور سارے قصبہ نے چنا ہے اس سے نکاح پڑھوالیا تو محلہ کی مسجد کے امام نے نماز پڑھانے سے منع کر دیا کہ نہ پنجوقتہ نماز پڑھاؤں گا اور نہ نماز جمعہ پڑھاؤں گا جب نکاح پڑھانے والے نے اقرار کر لیا کہ میں پچاس روپیہ دے دوں گا تو پھر نماز پڑھانے لگے اپنی لالچ کے پیچھے نماز پڑھانا چھوڑ دیا۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) جس جگہ پہلے سے عیدین و جمعہ پڑھتے تھے وہیں پڑھتے رہیں۔ زید کا جمعہ قائم کرنا صحیح نہیں نہ عیدین قائم کرنا درست ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۴۰–۴۴۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مزارات اولیاء کی توہین اور امام کا حکم
باب: کتاب العقائد
کثرت سے گالی بکنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت شاہ مدار کو غوث اعظم پر فضیلت دینے کا حکم
باب: کتاب العقائد
عیدگاہ میں مسجد کی تعمیر اور جمعہ و عیدین کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت شاہ مدار اور حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مرتبہ میں افضلیت کا بیان
باب: کتاب العقائد