توسل اولیاء، ذکر الہی اور دعا کی قبولیت کے متعلق شرعی مسائل
(۴) شجرے کے وظائف میں ذکر نفی اور ذکر اثبات ہے، ذکر نفی میں جب وظیفہ پڑھوں گا تو کس طرح ؟ اور چلتے پھرتے پڑھ سکتا ہوں یا نہیں؟ (۵) گھر یلو حالات سے بہت پریشان رہتا ہوں، کوئی بھی کام کرتا ہوں کا میابی نہیں ہوتی ، ہر طرف ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خداوند کریم سے دعا کرتا ہوں، قبول نہیں ہوتی۔
الجواب: المستفتی : غلام نیاز احمد قادری کیراف حاجی کلاتھ اسٹور ، ہدی مارکیٹ ، پکی سرائے چوک ،مظفر پور، بہار (۱، ۲) ہرولی کے مزار پر حاجت طلب کرنا جائز ہے۔ ولی کو وسیلہ بارگاہ خداوندی جانیں اور اس کے وسیلے سے خدا سے مانگیں حقیقت میں خدا ہی سے مانگا جائیگا اور وہی حقیقت میں دینے والا ہے اور نبی و ولی بلکہ ہر مخلوق اس کی مددگار وسیلہ اور اعانت کا مظہر ہے۔ اور انبیاء و اولیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے کل مخلوق سے زائد قدرت واختیار سے نوازا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ان کی طرف توجہ نہ کریں اور نماز پوری کر لیں، خارج نماز لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم کی کثرت کریں نیز درود شریف کی کثرت کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ہر پاک جگہ پر ہر طرح ذکر کا اختیار ہے اور بیٹھ کر بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) { حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ } بعد نماز عشاء ۴۵۰ / بار اول و آخر درود شریف تین تین بار پڑھیں اور بے گنتی بے تعداد وضو بے وضو ہر پاک جگہ پر پڑھتے رہیں اور قبولیت کا یقین رکھیں ۔ انشاء اللہ تعالیٰ دعا ضرور قبول ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق دعا قبول فرماتا ہے اور بندے کو دعا کی برکت اور اس کا ثواب ملتا ہے اور جود عابظا ہر قبول نہ ہوگی وہ قیامت کے لئے ذخیرہ ہو جاتی ہے بشرطیکہ بندہ صبر کرے اور مایوس نہ ہو۔ پھر قبولیت اتباع شریعت پر موقوف ہے۔ آداب دعا کے لئے ”احسن الدعاء‘ دیکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ / جمادی الاولی ۱۴۰۷ھ