حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ولایت اور ان کے تصرفات کا انکار کرنے والے کا حکم
زید پیری مریدی کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ولی نہیں تھے۔ صرف عالم دین تھے۔ ہندوستان میں آپ کے کوئی تصرفات بھی نہیں ہیں۔ کیا ایسا کہنے والاسنی صحیح العقیدہ اور پیر طریقت ہو سکتا ہے؟ اس سے مرید ہونا چاہئے یا نہیں ؟ اس کی صحبت میں بیٹھنا اور سلام و کلام کرنا کیسا ہے؟ بالوضاحت جواب مرحمت فرمائیں۔
الجواب: بر تقدیر صدق سوال زید بے قید جھوٹا ہے۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید وسردار اولیاء ہیں ۔ حضرت شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ نے غوث اعظم قدس سرہ کے فضائل ومحامد میں زبدة الآثار وزبدة الاسرار مستقل کتابیں لکھیں اور اخبار الاخیار شریف میں سب سے پہلے غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر جمیل به تفصیل جلیل فرمایا اور اشعۃ اللمعات کے مقدمہ میں القاب کثیرہ عظیمہ جلیلہ آنجناب کے لئے لکھے مقدمہ اشعۃ اللمعات میں امام احمد بن حنبل کے اجتہاد کے تذکرہ میں ہے: اجتہاد ایں امام اجل و اکرم آنست که شیخ الشیوخ قدوۃ الاولیاء قطب الاقطاب فردا حباب غوث اعظم شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاه حامل مذہب و تابع اقوال اوست (۱) اسی میں خواجہ محمد پارسا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محدث کبیر ابن جوزی علیہ الرحمہ کا قید خانہ واسط میں مقید ہونا اور پانچ سال نہاں خانہ میں روپوش رہنا اور یہ سب بہ سبب اعتراض برغوث ہوا تحریر کیا اس تحریر میں خواجہ مذکور نے غوث ممدوح کو قطب الاولیاء تاج المفاخر لکھا: وهذا نصه شیخ عالم عارف کامل خواجه محمدپارسا قدس الله روحه و افاض على المستفيدين فيوضه و فتوحه در فصول سته که از تصانیف ایشاں است در ذکر ابن جوزی تقریب فرموده اند که هو الشيخ الحافظ ابو الفرح عبد الرحمن بن علی بن محمد بن علی البكرى البغدادى المعروف بابن الجوزی بود امام حافظ فصیح متبحر مصنف در اقسام علوم بست و پنجاه تصنیف کرده بود مراد را قبول تام نزد خاص و عام بود ولادت او ببغداد درسته ثمان وشمس ما ة ووفات یافت در رمضان سنه سبع و تسعین و خمس ماة و بیرون آورده شد از زندان واسطه و پنہاں ماند در نهانخانه پنج سال بسبب انکار وے بر شیخ عبد القادر قطب الاولیاء تاج المفاخر (۱) زید دیکھے یہ دو بزرگ غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیسی توصیف کر رہے ہیں اور محدث علامہ ابن جوزی علیہ الرحمہ کے واقعہ سے عبرت پکڑے۔ اور سوچے کہ اس جناب کی شان میں انکار کی سزا حضرت محدث مذکور کو دنیا میں یہ ملی تو وہ کس گنتی میں ہے۔ پھر یہی شیخ عبدالحق محدث دہلوی ابن جوزی کے لئے سرکار غوثیت کی طرف سے عفو و درگزر کی خبر پا کر اپنے پیر برحق شیخ عبد الوہاب متقی کا ان کی عاقبت بخیر ہونے پر خوش ہونا یوں بیان کرتے ہیں: ونقل کردم حکایت عفو حضرت شیخ را از ابن جوزی پس گفت شیخ عبدالوہاب الحمد للہ علی ذالک و فرمودوے مردے عالم محدث کبیر است الحمد لله نجات یافت ازیں ورطه (۲) پھر متصلاً اپنے انہیں مرشد برحق سے غوثیت مآب پر انکار کا انجام اور حضرت غوثنا الجیلانی کا جملہ مشائخ پر فضل تام یوں ذکر فرماتے ہیں: ی فلان شیخ عبدالقادر بزرگ است و شان او عظیم است و انکار ایشاں زہر قاتل است خداے تعالیٰ نگاہداردازاں و فرمود حق سجنه داده است اورا از فضل و کرامت آنچه نداده است غیر اورا از مشایخ (۳) زیددیکھے یہ تین ہندی بزرگ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت کا کیسا خطبہ پڑھ رہے ہیں اور انہیں تین پر بس نہیں ان کے مداحوں کی گنتی ہی نہیں اور یہ سرکار غوثیت کے تصرف کی دلیل بلکہ ان کا عین تصرف ہے اور سب سے بڑی کرامت غوثیت مآب سلطان الہند غریب نواز نائب سرکار غوثیت ہیں مگر ہے یہ کہے گرنہ بیند بروز شیره چشم چشمه آفتاب را چه گناه اور خاندان برکات مارہرہ اور کچھو چہ مقدسہ وغیر ہا کے بزرگان والا شان کیا غوث اعظم کے تصرف کا نشان نہیں اور زید نے یہ کہا کہ ”ولی نہیں تھے، صرف عالم دین تھے ۔ کیا عالم دین ولی نہ ہوگا تو زید جیسا جاہل ولی ہوگا ؟ حاشا و کلا ولی تو کہتے ہی ہیں عارف باللہ تعالیٰ کو ۔ درمختار میں ہے: هو لغة خلاف العدو وعرفا العارف بالله تعالى (1) رد المحتار میں ہے: قوله (وعرفا) أى في عرف اهل اصول الدین قال في البحر وفي اصول الدين هو العارف بالله تعالی باسمائه وصفاته حسب ما يمكن المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصی الغير المنهمك فى الشهوات واللذات كما فی شرح العقائد - اه (۲) اجماع اولیاء ہے کہ جاہل ولی نہیں ہوتا: ما اتخذ الله وليا جاهلا (۳) زید بے قید پر تو بہ صحیحہ لازم ورنہ اندیشہ کفر وسوء خاتمہ کا ہے۔ معین الحکام و تکملہ لسان الحکام ونصاب و عالمگیری میں ہے: من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خیف علیه الکفر (۴) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ ذیقعده ۱۴۰۰ھ