سخاوت حسین نیپالی کی توبہ، اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی اور امامت کا معاملہ
سخاوت حسین نیپالی حبیبی نے آپ کے پاس بریلی شریف حاضر ہو کر اپنے معین جرموں کا اقرار کر کے تو بہ کی جس کی بنا پر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنی سمجھا جائے لیکن ابھی وہ امامت وغیرہ نہیں کرے گا، جب تک صلاح حال ظاہر نہ ہو پھر جب صلاح حال ظاہر ہو جائے اور استقامت معلوم ہو جائے تو مقامی سب سے بڑے عالم مرجع فتویٰ کے حکم سے موصوف اپنے منصب پر بحال کر دئے جائیں گے۔ بلکہ نیپالی مذکور نے اپنے تو بہ نامہ میں خود بھی تحریر کیا ہے کہ جب تک علمائے اہل سنت کو میرے او پر اعتماد نہیں ہو جاتا میں امامت وغیرہ نہیں کروں گا لیکن یہاں اودے پور میں اس نے جھوٹ مشہور کر دیا کہ مفتی اعظم نے مجھے امامت کی اجازت دے دی اور دوسری چار سو بیسی یہ کی کہ مولوی اکبر صاحب جود ونگر پور کے انجمن میں اردو کے ماسٹر ہیں اور وہیں مقیم ہیں اودے پور کبھی جلسہ جلوس میں دعوت پر تشریف لاتے ہیں ان سے اپنے اہل ہونے کا فیصلہ لایا۔ اور امامت کر رہا ہے۔ یہ اور آپ کو جو تو بہ نامہ لکھ کر دیا ہے اس میں بہت بڑے جرم کا ذکر کیا ہے نہ اس سے تو بہ کی ہے وہ ہے آیت: الا ان أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس: ٦٢ اور اس کی مثل آیتوں کا انکار کرتے ہوئے اس کا یہ قول کہ قرآن میں صرف رسول اللہ کے ایمان پر خاتمہ کا بیان ہے اور کسی کے ایمان پر خاتمہ کا بیان نہیں یہاں تک کہ خواجہ اور غوث اعظم کا ایمان پر خاتمہ ہوا یا نہیں ۔ تو سوال یہ ہے کہ : (1) اس سے تو بہ لازم ہے یا نہیں؟ اور کفر ہے یا نہیں؟ اور مذکورہ آیت اور اس کی امثال کا انکار ہے یا نہیں؟ (۲) اور نیپالی پر تمام کفروں اور جرموں سے تو بہ کے بعد علی الاعلان تجدید ایمان یعنی کلمہ پڑھنا لازم و فرض ہے یا نہیں؟ اس نے اپنے تو بہ نامہ میں تو بہ کے بعد کلمہ بھی نہیں پڑھا ہے۔ (۳) یہاں حضرت مولانا جہانگیر صاحب کو سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا ہے انہوں نے نیپالی کے اقراری استاذ یکی کو امامت سے خارج کیا تھا پھر سخاوت حسین نیپالی کو بھی بیان لے کر علمائے اودے پور کی کمیٹی نے امامت سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کی روانگی کا ٹکٹ بھی ہو گیا تھا لیکن کچھ لوگوں
(1) بے شک سخاوت حسین نیپالی پر اپنے اس قول بد سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے کہ اس کے اس قول سے حضرات کریمین غوث اعظم و خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اشد اہانت ہے فقہاء نے علماے ظاہر کی تو ہین کو کفر فر مایا ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر بلکہ اس کے قول میں سے بکثرت صحابہ کرام ( جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں جنکے لئے جنت کی بشارت حدیث میں آئی) بھی نہ بچے بلکہ جملہ صحابہ کرام کو اس قول بد نے اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ اس نے کہا صرف رسول اللہ کے۔ الخ، تو جہاں تمام صحابہ پر ہاتھ صاف کر دیا اور ان کے لئے نص قطعی {وَكُلًّا وَعَدَ الله الحسلی } سورة النساء:۹۵ وغیرہ سے حسن خاتمہ معلوم ہے۔ ثابت ہوا کہ سخاوت نام نہاد کا قول بے بنیاد بکثرت نصوص قطعیہ کا مکذب و نافی ہے جس سے اس پر بلاشبہ تجدید ایمان فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حرام بد کام بد انجام بلکہ کفر انجام ہے جبکہ اس کے کفریات پر مطلع ہو کر اسے امام بنائیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رشوال المکرم ۱۴۰۶ھ