سلسلہ مداریہ اور سلسلہ وارثیہ میں بیعت ہونے کی شرعی حیثیت اور ان سلسلوں کا بقا
بہت سے پیر لوگ حضرت سید نامدار صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سیدنا حاجی وارث علی رحمتہ اللہ علیہ کے نام پاک یعنی سلسلہ وارثی سلسلہ مداری سے لوگوں کو مرید کرتے ہیں کیا سلسلہ مداری اور سلسلہ وارثی ہے یا ختم ہے؟ جیسا ہو، جواب عنایت فرما ئیں ۔ اور جولوگ وارثی اور مداری سلسلہ سے مرید ہیں وہ کیا کریں؟
(1) سلسلہ مداریہ کے بزرگ حضرت شاہ مدار علیہ الرحمہ سے متعلق سبع سنابل شریف میں فرمایا کہ انہوں نے اپنے وصال سے کچھ پہلے اطراف واکناف میں خطوط بھیجے جن میں تحریر ہوا کہ ”من کسے را خلافت نداده ام نہ خواہم داد (1) میں نے کسی کو خلافت نہیں دی ہے اور نہ آئندہ کسی کو خلافت دوں گا۔“ (سبع سنابل شریف ص ۴۱، مکتبہ جامعہ نظامیہ لاہور) اور ظاہر ہے کہ اتصال سلسلہ کے لئے منجملہ شروط یہ شرط بھی ہے کہ مرید کرنے والا اپنے شیخ کا خلیفہ و ماذون ومجاز بہ بیعت ہو ورنہ بیعت و خلافت نہ ہوگی۔ پھر ان مداریہ کے اقوال وافعال سے خود ظاہر و باہر ہے کہ یہ لائق بیعت وارشاد نہیں ۔ حضرت وارث علی شاہ صاحب کا بھی کسی کو خلافت دینا معلوم نہیں ہے۔ لہذا ان لوگوں کو اتصال سلسلہ کے لئے کسی اور سلسلہ کے جامع شرائط بیعت سے مرید ہونا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سیدنا غوث اعظم کی فضیلت تمام اولیائے کرام پر تا ظہور مہدی مسلم و مقرر ہے جس پر اجلہ علماء اولیاء کا اتفاق ہے۔ اس کا انکار کرنا سخت محرومی و بدنصیبی ہے۔ ان باتوں سے حضرت مدار علیہ الرحمہ کی روح پرفتوح خوش نہ ہوگی۔ بلکہ جملہ اولیاء کی طرح وہ بھی یقینا ایسے امور سے بری و بیزار ہیں ۔ مولائے کریم ہدایت دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ