فرضی مزار کی زیارت، طواف اور وہاں منتیں ماننے والوں کا حکم
سوال
(۴) جو لوگ فرضی مزاروں کو اصلی سمجھ کر وہاں جائیں پھیرے ( چکر ) کھائیں منتیں ، مرادیں مانیں اور کہیں کہ منتیں مانا اسلام کے قوانین سے ثابت ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ اولیاء سے منت و استمداد جائز ہے۔ اور یہ تو تیرا غیر اسلامی عمل ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارا عمل ہمارے ساتھ ہے تمہارا عمل تمہارے ساتھ ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اسلام کا کیا فیصلہ ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
فرضی مزار کی زیارت کرنا حرام بدکام لعنت انجام ہے اور وہاں منتیں ، مرادیں مانگنا سخت حماقت، شدید جہالت اور ناجائز و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۳۶–۴۳۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
فرضی مزار بنانے والے کی حمایت اور تعاون کرنے والوں کا حکم
باب: کتاب العقائد
سلسلہ مداریہ اور سلسلہ وارثیہ میں بیعت ہونے کی شرعی حیثیت اور ان سلسلوں کا بقا
باب: کتاب العقائد
فرضی مزار بنانے والے شخص سے قطع تعلق کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے مرتبہ کو مدار صاحب کے مرتبہ سے کم بتانے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
فرضی مزار بنانے والے شخص اور اس کے جھوٹے دعووں کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد