فرضی مزار بنانے والے شخص سے قطع تعلق کرنے کا حکم
سوال
(۲) ہم تمام گاؤں والے جو اس شخص سے تقریبا قطع تعلق کئے ہوئے ہیں ہمارا یہ عمل کیسا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
لوگوں پر فرض ہے کہ اس فرضی مزار سے دور رہیں کہ اس کی زیارت کرنا حرام بدکام لعنت انجام سرکار مدینه تاجدار کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان برحق ہے: لعن الله من زار بلا مزار ۔ اللہ کی لعنت ہے اس پر جو بلا مزار زیارت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۳۶–۴۳۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
فرضی مزار بنانے والے شخص اور اس کے جھوٹے دعووں کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
فرضی مزار بنانے والے کی حمایت اور تعاون کرنے والوں کا حکم
باب: کتاب العقائد
کعبہ اور مومن کے دل کی حرمت کے موازنے سے متعلق شرعی وضاحت
باب: کتاب العقائد
فرضی مزار کی زیارت، طواف اور وہاں منتیں ماننے والوں کا حکم
باب: کتاب العقائد
نماز و روزہ کی اہمیت کا انکار اور انسانی وقار سے متعلق جاہلانہ قول کا حکم
باب: کتاب العقائد