کعبہ اور مومن کے دل کی حرمت کے موازنے سے متعلق شرعی وضاحت
(۴) زید کہتا ہے کہ ایک طرف کعبہ ہو اور ایک طرف مومن کا دل اگر مومن کا دل کعبہ کی وجہ سے دکھے اور ٹوتا ہوتو کسی کو توڑ دینا چاہئے کیونکہ کعبہ دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے لیکن دل ٹوٹنے سے نہیں بن سکتا کیا یہ باتیں صحیح ہیں از روئے شریعت جواب عنایت فرمائیں
الجواب: (1) زید کا قول اولیاے کرام کے ساتھ سخت تو ہین ہے زید نے اولیائے کرام کی اہانت کر کے خدا سے جنگ مول لی ہے حدیث میں ہے: من عادى لي وليا فقد أذنته بالحرب ) نہیں نہیں اس نے کتے کو سب سے بڑا ولی کہکر ایک جانور کو تمام اولیاء پر ہی فضیلت نہ دی بلکہ جانور کو تمام انسانوں سے افضل بتایا اورصریحاً قرآن کا انکار کیا جبکہ قرآن فرماتا ہے: وَلَقَد كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (۲) اور بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی زید پر تو بہ وتجدید ایمان لا زم اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی ضروری۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ کلمہ بھی اسکی جہالت کی نشانی ہے اور دانا و ناداں کو برابر کرتا ہے حالانکہ جاننے والا اور نہ جاننے والا عقلاً وشرعا کسی طرح برابر نہیں ہو سکتے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قرآن فرماتا ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ) (۳) یہ مطیع و عاصی کو برابر کہتا ہے اور نماز وروزہ کی فرضیت کے انکار کا صاف پہلو رکھتا ہے، لہذازید پر اس سے بھی تو بہ وتجدید ایمان لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) استغفر اللہ العظیم زید بے قید سے پوچھو کہ وہ کون مومن ہوگا جس کا دل کعبہ سے دکھے اور ھدم کعبہ کو جائز سمجھنے والا مسلمان ہی کب ہے زید پر اس سے بھی تو بہ وتجدید ایمان فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم ۲۳ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ بہاء المصطفیٰ قادری، منظر اسلام، بریلی شریف
حواشی: (1) الصحيح للبخارى كتاب الرقاق باب التواضع ، ج ۲، ص ۹۶۳ مطبع مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ مشکوۃ شریف، ص۱۹۷ ، الفصل الاول، باب ذکر الله والتقرب اليه ، مجلس برکات، مبارکپور اعظم گڑھ / کنز العمال ، ج ۷،۸ ، الباب السابع في صلاة النفل ، الفصل الاول في الترغيب فيها، حديث نمبر ۲۱۳۲۳، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (2) سورۃ بنی اسرائیل :۷۰ (3) سورة الزمر : ۹