فرضی مزار بنانے والے شخص اور اس کے جھوٹے دعووں کا شرعی حکم
ہمارے گاؤں (کرکوال) کا ایک شخص جس کا نام دلبیر خاں ہے اپنے کھیت میں ایک چہار دیواری بنا کر اس میں کچھ فرضی مزار بنا کر یہ اعلان کیا کہ یہ میراں دنا بر کا روضہ ہے اس کام کے لئے لوگوں سے چندہ وغیرہ بھی لیا اور کہا کہ مجھے اس کام کے لئے بشارت ہوئی ہے... دلبیر خاں مذکور جو خود بالکل جاہل، ان پڑھ آدمی ہے اس نے کچھ کوڑے بھی بنارکھے ہیں وہ ان کوڑوں کو منت مانگنے والوں پر مارتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہیں اتنے لڑکے دئے تمہاری فلاں مراد بر آئی وغیرہ۔ (1) دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکور بالا شخص کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا کیا فیصلہ ہے؟
الجواب: سوال زید عمر بکر وغیرہ ناموں سے کرنا چاہئے کہ طریقہ مستحبہ شرعا یہ ہے کہ مسئول عنہ کا نام نہ لے بلکہ اسے مہم رکھے ۔ اب جو حکم ذکر ہوتا ہے وہ بر تقدیر صدق سوال ہے۔ (۱) شخص مذکور جس نے فرضی مزار بنا یا سخت گناہ گار مستوجب نار ہے۔اس پر لازم ہے کہ فورا توبہ کرے اور اس مزار کو ڈھا دے اور اس کے لئے جو چندہ اس نے کیا اسے اس کے مالکان کو واپس کرے... اور وہ جو سوال میں شخص مذکور کی بابت تحریر ہوا کہ تمہیں اتنے لڑ کے دیئے صرف فریب ہے اور جھوٹا ادعائے ولایت و کرامت ہے ۔ شخص مذکور اس سے بھی تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم