حضرت ابوسفیان، حضرت ہندہ، حضرت امیر معاویہ اور دیگر صحابہ کی صحابیت اور ان کی شان میں گستاخی کا حکم
حضرت ابوسفیان، ہندہ، امیر معاویہ عمر وابن عاص و وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہم صحابی ہیں، حدیث میں ہے: "لا تسبوا احدا من اصحابی ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: حضرت ابوسفیان و حضرت ہندہ، وحضرت امیر معاویہ و حضرت عمرو بن عاص و حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہم صحابی رسول ہیں یا نہیں ؟ اور ان حضرات سے حسن ظن رکھنا کیا ضروری ہے اور جو شخص مذکور حضرات سے حسن ظن کے بجائے لعن طعن کرے اور صحابیت کے مرتبہ سے خارج بتائے اس پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ فقط المستفتی: سیدمحمد صفدر علی، محله خدا گنج، پیلی بھیت، یوبی
الجواب: بلا شبہ یہ حضرات صحابی رسول ہیں اور ان سے ہمارے رب کریم نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے۔ قرآن عظیم فرماتا ہے: وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْلى () اللہ تعالیٰ نے سب صحابہ سے بھلائی کا وعدہ فرمایا تو اُن سے حسن ظن رکھنا قرآن پر ایمان کا تقاضا ہے اور ان پر لعن طعن کرنا معاذ اللہ خود ملعون بننا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ،، اذا رائيتم الذين يسبون اصحابی فقولو العنة الله على شركم (۲) جب تم اس فرقہ کو دیکھو جو میرے صحابہ کوگالی دیتا ہے تو کہو کہ اللہ کی لعنت تمہارے شر پر۔ دوسری حدیث میں ہے کہ فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے : اذا ذکر اصحابی فامسکوا‘(۳) جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو زبان روکو۔ تیسری حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں حضور پر نور علیہ الصلاۃ والسلام : دعوالی اصحابی و اصهاری (۴) میری خاطر میرے صحابہ اور میرے اصہار ( سسرالی رشتہ والوں ) کو چھوڑ دو۔ (1) سورة النساء:۹۵ (۲) الجامع للترمذى جزء ۲، ص ۲۲۷ ، ابواب المناقب، باب فی من سب اصحاب النبی صلی الله عليه وسلم مطبع مجلس بركات مبارکپور اعظم گڑھ (مشكوة المصابيح، ص ۵۵۴، باب مناقب الصحابة، الفصل الثالث، مجلس برکات، مبارکپور (۳) الجامع الصغير مع فيض القدير ج ۱، ص ۴۴۷، حدیث نمبر ۶۱۵ ، باب الهمزه ، دار الكتب العلمية بيروت مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابیح، ج ۱۰، ص ۳۱، کتاب الفتن ، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۴) کنز العمال ج ا ا ص ۲۴۱ ، حدیث نمبر ۳۲۴۶۷، کتاب الفضائل الباب الثالث ذكر الصحابة وفضلهم مطبع دار الكتب العلمية بيروت / الجامع الصغير مع فيض القدير، ج ۳، ص ۷۱۰ ، حدیث نمبر ۴۲۲۳، حرف الدال مطبع دار الكتب العلمية بيروت چوتھی حدیث میں ہے کہ فرمایا میرے صحابہ کوگالی نہ دو کہ تم میں اگر کوئی کوہ احد کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے مٹھی بھر جو کو نہ پہنچے۔ عن ابي سعيد قال كان بين خالد بن الوليدوبين عبدالرحمن بن عوف شئ فسبه خالد فقال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لا تسبوا احدا من اصحابی فان احدكم لو انفق مثل احد ذهبا ما ادرک مداحدهم (۱) یہ ارشا د حضرت خالد بن ولید کو ہوا جو خود صحابی ہیں تو ما و شما کے بابت کیا گمان ہے یہیں سے یہ مسئلہ شرعی ثابت که غیر صحابی خواہ کتنے ہی منازل طے کر جائے صحابی سے افضل نہ ہوگا بالجملہ جو شخص مذکورین پر لعن طعن کرتا ہے، سخت گناہگار بلکہ رافضی تبرائی ہے اس کی صحبت سے احتراز شدید لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۸ / رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی