حضرت امیر معاویہ پر تبرا کرنے والا کافر ہے، حضرت امیر معاویہ بشارت عظمی میں شامل، صحابہ سے جلن ہی کسی کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے یہاں ایک جماعت بنام حلقہ قادریہ رشیدیہ ہے جس کے ممبران خود کو قادری کہلاتے ہوئے محرم کے مہینہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غم میں سینہ کوبی کرتے ہیں اور کالا کپڑا سوگ میں پہنتے ہیں اور صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ان کے یہ اقوال ہیں بلکہ ان لوگوں نے اپنی جانب سے ان ہی باتوں پر مشتمل تحریر بھی پیش کی ہے۔ ” معاویہ بے حیاء غدار مردود بلکہ قرآن کے مطابق ظالم ، فاسق اور کافر ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا کہنے والوں کے لئے شرعا کیا حکم ہے؟ اور یہ بتائیں کہ اگر وہ لوگ کسی سے مرید ہو چکے ہوں تو کیا ان کی بیعت بھی فسخ ہو گئی اور اگر پیر بھی اسی عقیدہ کا ہو تو کیا اس پیر سے علیحدگی اور اس سے بیزاری ضروری ہے؟ جواب با تفصیل قرآن وحدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ المستفتی : سید آل رسول صاحب
الجواب: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول علیہ السلام ہیں اور بشارت عظمیٰ : وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنى () میں یقینا آپ بھی داخل ہیں ان پر ایسا تبرا کرنے والا خود مکذب قرآن مبین و کافر بے دین ہے۔ اور قرآن پر افترا کرنے والا ہے جو یہ کہتا ہے کہ معاذ اللہ قرآن کے مطابق- الخ“ بلکہ ایسوں کے متعلق قرآن فرماتا ہے: لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ (۲) (1) (۲) سورة النساء : ۹۵ سورة الفتح : ٢٩ یعنی اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ سے کافروں کو جلاتا ہے اور واقعی صحابہ سے جلتے ہیں تو محض صحابہ سے جلن ہی ان کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین و اسلام سے ان کی تیری و بے راہ روی کی دلیل ہے ایسا شخص جب تک تو بہ وتجدید ایمان نہ کرے مسلمان نہیں۔ اور اگر کسی سے بیعت تھا تو بیعت فسخ ہوگئی اور نکاح بھی زائل ہو گیا اور پیراگرایسا عقیدہ فاسدہ پر ہے تو اس سے تبری و بیزاری ضروری۔ اور اس سے بیعت خود فسخ ہوگئی۔ اسے بیر جاننا منافی ایمان ہے اور ان لوگوں پر جو ایسے عقیدہ والے کو پیر جانیں تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ / رمضان المبارک، ۱۴۰۹ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی