کسی صحابی کو منافق کہنا اور قرآن کی آیت میں لفظ حذف یا اضافہ کرنے کا حکم
اگر کوئی مسلمان کسی صحابی کو منافق کہے خاص کر بدری صحابی رضی اللہ عنہ کو اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی اس آیت سے {إِنْ أُرِيدُ إِلا الإِصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِىٰ إِلَّا بِاللَّهِ} [سورة ۸۸] لفظ مَا اسْتَطَعْتُ“ کو حذف کر دے اور اس کے اس فعل پر اگر اسے تو بہ کرنے کو کہا جائے تو وہ بجائے تو بہ کرنے کے یہ کہے کہ تحریر ، تقریر اور دعا میں قرآن حکیم کی آیت میں حذف بھی کیا جاسکتا ہے اور اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو ایسے مسلمان پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ از راہ کرم مطلع فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط ، والسلام ! المستفتی: اعجاز حسین دیوان بازار کٹک، شاہد نگر، اڑیسہ
الجواب: صاف صاف لکھا جائے۔ وہ کون صحابی ہیں جنہیں منافق کہا گیا اور یہ تفصیل بھی لکھی جائے کہ آیت کریمہ تقریر وتحریر بقصد تلاوت لکھی پڑھی گئی یا بطور اقتباس درمیان میں آئی ؟ اگر بقصد تلاوت پڑھی گئی تو قصدا حذف کیا یا سہوا اور اگر بطور اقتباس آیت کریمہ کو متکلم اپنے کلام میں لایا تو اس نے قصد تلاوت ہی کب کیا کہ اس پر تحریف کا الزام آئے اور اگر وہابیہ دیابنہ منذ ولین اقتباس ہی کو ممنوع جانتے ہوں تو جملہ مصنفین پر الزام اٹھا ئیں اور جو اعتراض اس سنی عالم پر کرتے ہیں، ان سب پر کریں۔ اور ان سب کو کافر گردانیں پھر اپنے ایمان کی خیر نہ جانیں کہ ان میں کے اکثر ان کے معتمد ومستند و امام و پیشوا ہیں۔ فریقین کی مستند کتاب رد المحتار میں ہے کہ فقہاء کا یہ قول ان تضع الحرب اوزارها، قرآن عظیم سے اقتباس ہے اور یہ ہمارے نزدیک اقتباس کے جائز ہونے کی دلیل ہے: وهذا نصه قولهم: أن تضع الحرب أوزارها اقتباس من القرآن وبه يستدل على جوازه عندنا كما بسطه الشارح في الدر المنتقى فراجعه - اه (۱) اس عبارت میں دیو بندی بول چلیں۔ اولا۔ تمہارے نزدیک یہ سب فقہاء کافر ہوئے۔ ثانیا۔ علامہ ابن عابدین شامی فقہا کی اس عادت کو دلیل جواز بنا کر کافر ہوئے۔ ثالثا۔ بلکہ سب سے بھاری کفریہ کہ ان تضع الحرب اوزارها آیت قرآن کو ”قولھم “ کہ دیا۔ رابعا۔ فقہا نے بھی آیت کریمہ میں حذف کا ارتکاب کیا جیسا کہ ظاہر ہے تو یہ دیوبندیوں کے طور پر دوسرا کفر ہوا۔ خامسا۔ جب دیابنہ کے طور پر فقہاء حذف و تحریف کے مرتکب ہوئے اور فقہائے کرام ان دیابنہ کے بھی مانے ہوئے امام اور کافروں کو امام بنانا خود کفر و دیابنہ کو اپنے کافر ہونے کا اقرار لازم ۔ بالجملہ اقتباس جائز ہے اور اقتباس چونکہ مقتبس کا کلام ہوتا ہے۔ لہذا اس میں اسے تصرف کا اختیار ہے۔ جس پر جزئیہ مذکورہ دلیل واضح ہے اور اس پر تکفیر خود کفر میں اسیر ہونا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی یکم ربیع الاول ۱۳۹۹ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی (۱) رد المحتار، ج ۲، ص ۲۵۴ ، کتاب الجهاد باب المغنم والقسمة مطلب الاقتباس من القرآن جائز عندنا، دار الكتب العلمية، بيروت