حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا ثبوت اور ان کا مقام
کیا ابوسفیان صرف مسلمان تھے صحابی نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کہتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان مسلمان تھے صحابی رسول نہیں اور بکر کا کہنا ہے کہ صحابی رسول ہیں اور بکر کا کہنا ہے کہ تم اگر صحابی رسول نہیں مانو گے تو سیدھے جہنم میں جاؤ گے تو ایسا کہنا کیسا ہے؟ اور کس کی بات صحیح ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں! المستفتی :محمد عبدالجلیل صاحب محلہ مسجد ڈومنی بریلی شریف
الجواب: حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور قبل اسلام مؤلفہ القلوب میں سے تھے ، حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں جنگ کی اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مال غنیمت سے بھی تالیف قلب کو ایک سو اونٹ اور چالیس اوقیہ سونا مرحمت فرمایا، حضرت ابن عباس نے آپ سے حدیث روایت فرمائی، ۳۶ھ میں مدینہ میں انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے اکمال فی فضل صحابہ، باب حرف سین میں ہے: وو هو ابوسفیان بن صغر بن حرب الاموى القرشى والدمعاوية، ولد قبل الفيل بعشر سنين وكان من اشراف قريش فى الجاهلية وكان اليه راية الرؤساء في قريش اسلم يوم فتح مكة وكان من المؤلفة قلوبهم ) زيد نے غلط کہا لہذا تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله