واقعہ افک کی حقیقت اور اس پر روافض کے اعتراضات کا جواب
(1) واقعہ افک کے سلسلہ میں روافض، حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف سخت بیانی سے کام لیتے ہیں اس واقعہ کی تحقیق کیا ہے؟ اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جائے۔
الجواب: (1) واقعہ افک کی حقیقت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر عبد اللہ بن ابی منافق نے تہمت بدی کی رکھی اور اس سے عظیم فتنہ ہوا قرآن کریم نے سیدہ عائشہ صدیقہ کی براءت اور منافقین اور اس تہمت پر بے جا خوض کرنے والوں کو زجر و توبیخ فرمائی۔ روافض تو قرآن کریم کے منکر ہیں وہ حضرت عائشہ پر تہمت کرتے ہیں اس لئے وہ کا فربے دین ہیں اور دوسرا کفر اُن کا یہ ہے کہ وہ جملہ صحابہ سے جلتے اور ان پر تبرا کرتے ہیں خصوصاً شیخین کریمین پر طعن کرتے ہیں، قرآن کریم ان کے کفر پر شاہد ہے: لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ () (1) سورة الفتح : ٢٩ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ / رمضان المبارک ۱۴۰۹ھ