ہندوستان میں اسلام کی آمد اور خواجہ اجمیری سے قبل آبا و اجداد کے اسلام کی حیثیت
مسلمان ہیں اور اس کی کوئی تحقیق نہیں کہ کب سے مسلمان ہیں کہ اپنے آبا و اجداد کو ذات اجمیری تک منتہی کریں اور اس سے قبل کے آباؤ اجداد کو ہم مسلمان نہ سمجھیں جبکہ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کی ہندوستان آمد سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان نبوت کا زمانہ ہے تو کیا بلا تحقیق ایسا کہنا کہ ہمارے آبا و اجداد کو الخ ایسے شخص کو ہم عند الشرع کیا سمجھیں ہمعین الارواح میں ہے کہ عربی نسل کے علاوہ ہندوستان میں سب کافر تھے جس کو اجمیری علیہ الرحمہ نے مسلمان کیا ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی معتبی خواجہ اجمیری کو بتایا اس قسم کی باتوں کا عند الشرع کیا حکم ہے ایسے کلمات ادا کرنا کیسا ہے قانون شریعت کیا بتا تا ہے اس پر تو بہ لازم ہے یا نہیں؟ عمرو نے زید سے کہا کہ مولانا تو بہ کرو اس طرح تو تم نے خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کے قبل کے آباد اجداد کو مہم چھوڑا اور ہمارے اسلام کا منتہی خواجہ اجمیری کو بتاتے ہو یا ذات اجمیری سے پہلے آباؤ اجداد کو تم در پردہ کا فر جانتے ہو یا کیا کہتے ہو تو پہلو بدل کر کہا کہ ہم نے کا فر کہاں کہا؟ عمرو نے کہا اس طرح بولنا جائز نہیں ہے اس طرح بولو کہ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کی آمد سے ہندوستان میں اسلام کو فروغ ہوا اس سے پہلے بھی بہت سے اولیاے کرام ہندوستان آچکے ہیں اس لیے اپنے آبا و اجداد کو خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ تک محدود نہ بتاؤ تحقیق ہے کوئی؟ تو زید نے بلا تحقیق ایسی گفتگو کی تھوڑے سے حوالہ جات معین الارواح کی سند پکڑتے ہیں کیا معین الارواح میں ایسی کوئی مستند بات ہے؟ امید کرتا ہوں کہ جواب بالصواب سے نوازیں گے فقط والسلام المستفتی : محمد اشفاق عالم رضوی مصطفوی بائسی ہاٹ ، وایا بائسی ضلع پورنیہ، بہار
الجواب: (۱) اگر وہ تنقیص شان کی نیت سے نہیں کہتا بلکہ حالت کفر کا تذکرہ کرتا اور حضور علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد ان کی حالت کا بدل جانا بتا تا ہے تو حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع خواجہ خواجگان غریب نواز معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ سے بہت پہلے اسلام ہندوستان میں آیا تو یہ بات کہ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سب مسلمان ہوئے خلاف واقع ہے جس سے رجوع لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۹ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی