قرآن کو مطلقا مخلوق کہنا جائز نہیں، مکتوب ومقروء مخلوق ہیں!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع: (۱) زید کہتا ہے کہ قرآن جو اس وقت الفاظ کے ساتھ موجود ہے بے مثال مخلوق ہے ایسا کہنے والے پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔ مہربانی فرما کر وضاحت کے ساتھ جواب سے آگاہ فرمائیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۱) قرآن عظیم کو مطلقاً مخلوق کہنا نا جائز ہے اور بندوں کے مکتوب ومقر و کو مخلوق کہنے میں حرج نہیں۔ اور عوام کے سامنے یہ بحث چھیڑنا نہ چاہیے۔ اس امر کے متعلق پہلے بھی استفتاء ہوا ہے جس کا جواب قدرے مفصل لکھا گیا ہے اسے دیکھو۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۰۵–۴۰۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
حدیث "قرآن اگر آگ میں ہو تو نہ جلے گا" کی وضاحت اور مشاہدہ کی طلب کا حکم
باب: کتاب العقائد
قرآن کریم کو مخلوق کہنے اور اولیاء اللہ کے مزارات کو سجدہ کرنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
نماز میں حضرت علی کے استغراق اور سائل کی آواز سننے کی وضاحت
باب: کتاب العقائد
کسی صحابی کے زمانہ کفر کا تذکرہ کرنے کا حکم اور ہندوستان میں اسلام کی آمد
باب: کتاب العقائد
بغیر نکاح غیر مسلم یا مرتدہ عورت سے ہمبستری کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد