حدیث "قرآن اگر آگ میں ہو تو نہ جلے گا" کی وضاحت اور مشاہدہ کی طلب کا حکم
رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لو جعل القرآن في اهاب ثم القى في النار ما احترق“ لہذا زید کہتا ہے عمرو سے کہ مجھے اس کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دیجئے عمرو نے سکوت اختیار کیا پھر زید نے کہا آپ کو حدیث پر تیقین نہیں ۔ لہذا ان کو اجازت دی جائے یا نہیں؟ بینوا توجروا المستنتی فلاسک العبد الفقیر محمد رفیق الاسلام نورتی ساکن ڈھولو کچھ پوسٹ رام گنج تھانہ اسلام پور ضلع مغربی دیناج پور، بنگال
الجواب: حدیث برحق ہے اور قرآن سے مراد اللہ تعالیٰ کا کلام نفسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت از لیہ ہے اور حروف واصوات سے منزہ ہے حدیث شریف اسی کلام نفسی کے بابت فرمارہی ہے کہ اگر وہ کلام تنفسی کہ اللہ تعالیٰ کی صفت قدیمہ ہے کسی کھال میں مصور ہوتی پھر اس کھال میں آگ ڈالی جاتی تو آگ اسے نہ چھوٹی فیض القدیر شرح جامع الصغیر علامہ عبد الرؤف مناوی قدس سرہ میں ہے ”ای لو صور القرآن و جعل فی اهاب والقى فى النار ما مسته ولا احرقته ببركته (۱) زید نے حدیث کا مصداق اس مکتوب فی المصاحف کو سمجھا جو اس کلام نفسی کی حکایت اور اسپر دال ہے حالانکہ وہ مراد نہیں۔ تولا جرم اس سے وہی کلام نفسی مراد ہے اور اسی کی نسبت برسبیل فرض لو كان القرآن في اهاب‘ فرمایا ہے۔ اسی فیض القدیر میں ہے: وقال الحكيم: القرآن كلام الله ليس بجسم ولا عرض فلا يحل بمحل وانما يحل في الصحف والاهاب المداد الذى تصور به الحروف المحكى بها القرآن فالاهاب المكتوبة فيه ان مسته النار فانما تمس الاهاب والمداد دون المكتوب الذى هو القرآن لو جاز حلول القرآن في محل ثم حل الاهاب لم تمس الاهاب النار ، الخ (۲) اور اگر قرآن سے مراد یہی مکتوب فی المصاحف ہو تو مشتمل ہے یہ معجزہ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات ظاہری کے ساتھ ہو ۔ اسی فیض القدیر میں ہے: "وقيل هذا كان معجزة للقرآن في زمنه كما تكون الأيات في عصر الانبياء" تو اس تقدیر پر اس کا استمرار ثابت نہیں اور بالفرض اگر مستمر بھی ہو تو ما و شما جیسے ضعفاء الیقین عدیم التوکل کے ہاتھوں پر اس کا ظہور کب ضرور پھر قرآن وحدیث میں نار کا غالب اطلاق نار جہنم پر ہوتا ہے تو اس قرینہ سے یہاں نار جہنم مراد ہے۔ فیض القدیر میں ہے: "والمرادبها نار جهنم" پھر سخت الہی یہ ہے کہ حدیث برسبیل فرض ہے اسمیں یہ حکم کہاں ہے؟ کہ قرآن کو اس تجربے کے لئے آگ پر پیش کرو اور معاذ اللہ اپنے ایمان کو تکذیب حدیث کی آگ لگاؤ بالجملہ زید کا یہ مطالبہ سخت حماقت شدید جرات ہے اور قرآن کو آگ میں ڈالنا شدید ممنوع ۔ ہندیہ میں ہے: "المصحف اذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار اشار الشيباني الى هذا في السير الكبير وبه نأخذ كذافي الذخيرة_واللہ تعالیٰ اعلم" فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۱۶ جمادی الآخرة / ۱۴۰۴ھ