نماز میں حضرت علی کے استغراق اور سائل کی آواز سننے کی وضاحت
(۷) ایک سنی عالم نے اپنے وعظ میں فرمایا کہ (الف) جب مولا علی کرم اللہ وجہہ نماز کے وقت رکوع میں تھے جب کسی سائل نے سوال کیا تو آپ نے رکوع ہی میں انگلی میں سے انگشتری مبارک کو اشارہ سے نکال کر سائل کی طرف بڑھادی اور وہ لیکر چلا گیا۔ (ب) مولی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاؤں مبارک میں پھل دار کانٹا لگ گیا اور اس کو نکالنے میں اتنا درد ہوتا تھا کہ آپ اس کو نکالنے نہیں دیتے جب آپ نماز میں مشغول تھے اور سجدہ میں تھے تو کسی صحابی نے نکال لیا اور درد معلوم نہیں ہوا یہ وعظ ایک سنی عالم کا ہونے کی وجہ سے یقین کرتا ہوں ایمان لاتا ہوں لیکن تسکین دل کی خاطر یہ خلاصہ فرمادیں کہ جب آپ کو نماز میں درد کا احساس نہیں ہوا تو سائل کی آواز آپکے کان مبارک تک کیسے پہونچی ۔
(۷) دونوں روایتیں مستند کتابوں میں وارد ہیں اور درد کا احساس نہ ہونا بہ طور کرامت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ دونوں میں فرق ہے سائل کو دینا کا ردین و ثواب ہے اور درد کا معاملہ اپنے نفس سے متعلق ہے اسی لئے سائل کے سوال کو سن کر دے دیا اور نماز کی حالت میں صدقہ کا ثواب حاصل کر لیا جس کی فضیلت میں قرآن نازل ہوا اور وہ معاملہ خاص نفس کا تھا اس لئے ادھر التفات نہ ہوا پھر یہ اس قبیل سے ہے جس کے بارے میں فاروق اعظم نے فرمایا: ،، انى لأجهز جيشي و أنا في الصلاة (1) لشکر کی ترتیب نماز کی حالت میں کرتا ہوں۔ گویا ایک حالت دوسری حالت سے مشغول نہیں کرتی کہ یہ رتبہ ابرار صالحین کو حاصل ہوتا ہے اس کی نظیر سر کا را بد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ واقعہ ہے کہ نماز کی حالت میں دیوار مسجد میں جنت و دوزخ کو ملا حظہ فر ما یا۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری غفرلہ القوی قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) بخاری شریف جلد اول، كتاب التهجد باب يفكر الرجل الشئ في الصلاة ، ص ۱۶۳ مجلس بركات مبارکپور، یوپی