کسی صحابی کے زمانہ کفر کا تذکرہ کرنے کا حکم اور ہندوستان میں اسلام کی آمد
بحضور فیض گنجور حضرت قبلہ از ہری صاحب دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکات ۔ حضور والا کی خدمت اقدس میں استفتا بھیجنے کا وقت نہیں کیونکہ بریلی شریف ہی کیا پوری دنیائے سنیت کا آفتاب آقائی نعمتی حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے وصال نے دنیائے سنیت کو سوگوار بنادیا ہے خاندان اعلیحضرت عظیم البرکت کی دینی استقامت کو جانتے ہوئے حضور سے چندسوالات کا اظہار کیا ہے حضور والا مرتبت کو جب کبھی فرصت ہو خادم رضوی کو جوابات عنایت فرما ئیں ،شرح وبسط کے ساتھ جوابات عنایت ہو ۔ معاف کریں کہ یہ وقت نہیں ہے۔ (1) کوئی شخص خالد بن ولید کی تاریخ اس طرح ذکر کرے کہ اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ کے دین کو مٹانے اور رسول اللہ کو تکالیف دینے کیلئے خالد بن ولید بڑی گھناؤنی تدابیر کرتے تھے اور ایسا کہنے والا کوئی بری نیت سے نہیں کہا بلکہ تاریخ کے ایک واقعہ کا ذکر کیا تو کیا ایساذکر کرنا عند الشرع بُرا ہے اگر بُرا ہے تو تاریخ کوالٹ کرکس انداز سے بولیں؟ (۲) زید اپنے کو عالم اہلسنت جانتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ہمارے آبا و اجداد کو ملک ہندوستان میں مسلمان کرنے والے خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ ہیں جب کہ ان سے پہلے جو ہمارے آباؤ اجداد تھے ان کو در پردہ اسلام سے خارج سمجھا یا نہیں جبکہ اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے زمانہ اقدس سے چلا ہے، حضور اجمیری علیہ الرحمہ تو بہت بعد ہندوستان تشریف لائے اور ہمارے آبا ؤ اجداد نسلاً بعد نسل
(۱) اگر وہ تنقیص شان کی نیت سے نہیں کہتا بلکہ حالت کفر کا تذکرہ کرتا اور حضور علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد ان کی حالت کا بدل جانا بتا تا ہے تو حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم