خانہ کعبہ اور گنبد خضری کے نقوش والی جائے نماز کے استعمال کا حکم
سوال
(۲) جس جائے نماز پر خانہ کعبہ یا گنبد خضری کے نقش بنے ہوں اس پر بیٹھ سکتے ہیں یا نہیں خواہ کسی حالت میں ہوں یا ان دونوں کے نقوش کو پشت کے پیچھے کر کے بیٹھنا جائز ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ جائز ہے مگر ادب و احترام کے خلاف ہے اور سخت بے ادبی ہے۔ شرعی حکم سے مطلع فرمایا جائے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) ان نقشوں پر قصدا بیٹھنا خلاف ادب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۱۱–۴۱۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
واقعہ افک کی حقیقت اور اس پر روافض کے اعتراضات کا جواب
باب: کتاب العقائد
نماز میں سورت کی ایک آیت چھوٹ جانے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو علیہ السلام کہنا کیسا ہے؟
باب: کتاب العقائد
حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا ثبوت اور ان کا مقام
باب: کتاب العقائد
ہندوستان میں اسلام کی آمد اور خواجہ اجمیری سے قبل آبا و اجداد کے اسلام کی حیثیت
باب: کتاب العقائد