نماز میں سورت کی ایک آیت چھوٹ جانے کا شرعی حکم
سوال
(۳) زید نے فرض نماز مغرب پڑھائی۔ سورہ فاتحہ کے بعد واضحی اس نے شروع کی یہاں تک کہ پوری سورت پڑھ لی ،مگر صرف ایک آیت درمیان میں ووجدک ضالا فھدی چھوٹ گئی باقی آخر تک پڑھ لی دریافت طلب امر یہ ہے کہ نماز ہوگئی یا نہیں؟ یا سجدہ سہو کرنا ضروری تھا؟ تفصیل سے بیان فرمادیں۔ فقط، المستفتی: ابوالکلام، گئم کصور فرخ آباد بینوا توجروا!
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ / رمضان المبارک ۱۴۰۹ھ (۲) ان نقشوں پر قصدا بیٹھنا خلاف ادب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نماز ہوگئی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۴۱۱–۴۱۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
خانہ کعبہ اور گنبد خضری کے نقوش والی جائے نماز کے استعمال کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا ثبوت اور ان کا مقام
باب: کتاب العقائد
واقعہ افک کی حقیقت اور اس پر روافض کے اعتراضات کا جواب
باب: کتاب العقائد
کسی صحابی کو منافق کہنا اور قرآن کی آیت میں لفظ حذف یا اضافہ کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو علیہ السلام کہنا کیسا ہے؟
باب: کتاب العقائد