گستاخانہ کلمات، اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ثابت کرنے اور قرآن کریم پر اعتراض کرنے والے مولوی کا حکم
(1) ایک قصبہ کے اندر ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں علاوہ علمائے کرام کے مفتی ثناء اللہ صاحب بنارسی و مفتی انیس عالم سیوانی اور مدرسہ عزیزیہ اشرفیہ مہاراج گنج کے مولوی عبدالعزیز صاحب جلسہ میں تشریف فرما تھے تو دوران تقریر میں مہاراج گنج کے مولوی عبدالعزیز صاحب نے اس گستاخانہ جملے کو استعمال کیا ( کہ محمد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا ) اور جب اللہ کو گدگدی محسوس ہوئی تو محمد کو پیدا کیا جب یہ نا روا الفاظ مولوی موصوف نے استعمال کیا تو مفتیان کرام جو وہاں موجود تھے انھوں نے مولوی موصوف کی تقریر کو بند کرا کر از سرنو تو به و استغفار کرا کر کلمہ پڑھایا لیکن جب مولوی موصوف مہاراج گنج آئے تو لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوا تو انھوں نے انکار کر دیا کہ میں نے ایسے الفاظ پر تو ہ نہیں کیا ہے ۔ یہ غلط ہے۔ لیکن مفتیان کرام سے جب اس بات کی چھان بین کی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ یہ واقعہ صحیح ہے لیکن مولوی موصوف تو بہ اور کلمہ کو مانے پر تیار نہیں ہیں اس پر شرعا کیا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ بینوا تو جروا (۲) ہمارے قصبہ مہاراج گنج کی شاہی مسجد میں ربیع الثانی کا سالانہ جلسہ ہوا کرتا ہے اس مسجد میں مولوی عبد العزیز صاحب کی تقریر ہو رہی تھی تو مولوی موصوف نے دوران تقریر میں یہ کہا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نرفعے میں پڑ گئے تھے ۔ اور کافروں نے گھیر لیا تھا۔ تو اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک کر مارا، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا کہ منگاؤ فتویٰ کتنا منگاؤ گے میں پھر خدا کا ہاتھ ثابت کرتا ہوں حکم سے مطلع کیا جائے ۔ (۳) مہاراج گنج ہی کے قریب متصل ایک گاؤں ہے وہاں بھی دوران تقریر میں مولوی عبد العزیز صاحب نے کہا : کہ اللہ تعالی کا فرمان : {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ} اس بارے میں اللہ تعالی کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا بلکہ اذکر کم فاذکرونی“ کہنا چاہئے تھا سو غلطی کیا۔ ان سب باتوں کو لے کر مسلمانان مہاراج گنج میں سخت اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ دو پارٹی ہوگئی ہے یہ مولوی موصوف عالم ہونے کا بھی دعوی کرتے ہیں حالانکہ عالم کی سند نہیں ہے، صرف مولوی تک ہیں اور عالم کا دعوی کر کے لوگوں میں فتنہ فساد پیدا کرتے ہیں لہذا ان تینوں مسئلوں میں مفتیان کرام کا شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا کیا ان کی بیوی ان کی زوجیت میں رہ سکتی ہے بلا نکاح ؟، ایسے مولوی کو میلا دجلسہ وغیرہ میں
(1) مولوی مذکور نے اگر فی الواقع وہ کلمہ ملعونہ کہا جو سوال میں مذکور ہوا کہ اگر محمد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا تو اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی رکھتا ہے لازم ہے۔ اس کے اس مقال کا صریح مفاد یہ ہے کہ معاذ اللہ اللہ تعالی حادث ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے حدوث کا سبب ہیں اور یہ صریح کفر، آیات و احادیث و اجماع امت کا انکار ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ه )) وہی اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہیں وہی آخر ہے کہ سب کے فنا کے بعد وہی دائم و باقی وہی اپنے آثار قدرت سے ظاہر و ہی اپنی کنہ ذات کے اعتبار سے مخلوق کی نظروں سے باطن اور وہی ہرشئی کا جاننے والا ہے۔ حدیث میں ہے: كان الله و لم يكن معه شئ غیره (۲) اللہ تعالی تھا اور اس کے ساتھ کچھ نہ تھا اس کے علاوہ یونہی اس کا دوسراکلمہ ملعونہ کہ ”جب اللہ تعالی کو ۔ الخ، بیہودہ ہذیان وکفر صریح ہے، بدیہی ہے کہ اللہ تعالی کے صفات حوادث و تغیرات سے پاک ہیں اور گد گدی اور احساس میں تغییرات حادثہ ہیں جنکی اضافت اللہ تعالی کی طرف کفر وسوء ادب ہے وہی تغیرات حوادث اور حوادث کو پیدا فرمانے والا ہے بغیر اس کے کہ اس پر تغیر طاری ہو۔ علامہ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی نے کفریات میں شمار فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے لئے ایسی صفت مانے جو اجماعا اس سے منفی ہے یا ایسی صفت کی نفی کرے جو اس کے لئے ثابت ہے۔ او نفى ماهو ثابت لله تعالى بالاجماع المعلوم من الدين بالضرورة كا نكار اصل نحو علمه او قدرته او عونه يعلم الجزئى او اثبات ما هو منفی عنه کذالک کاللون کذافی الزواجى ملتقطا (1) امام حجۃ الاسلام محمد غزالی نے احیاء علوم الدین میں فرمایا: وو ومثال الخطأ فيه: هذا البيت بعينه لو سمعه في نفسه و هو مخاطب به ربه عز وجل فيضيف التلون الی اللہ تعالی فیکفر “۔(۲) اسی میں ہے: ”بل ینبغی ان يعلم انه سبخنه و تعالى يلون ولا يتلون، ويغير ولا يتغير، بخلاف عبادہ الخ (۳)۔ واللہ تعالی اعلم (۲) قرآن عظیم اور حدیث میں ید (ہاتھ ) کی اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی ہے اور یہ متشابہات میں سے ہے یعنی جس کی قطعی مراد اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ اور محکم وہ ہے جوارشاد ہوا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَي (٢) کہ اللہ کے مثل کوئی بھی نہیں اور متشابہات میں مذہب سلف یہ کہ اس کے ظاہر سے اللہ کو منزہ جانتے ہیں اور جو اس کی مراد ہے اللہ کی طرف اس کا علم مفوض کرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مذہب خلف یہ ہے کہ وہ تاویل صحیح شرعی کو جائز رکھتے ہیں بنا بریں مفسرین کرام نے ید سے قدرت کو مرا دلیا اور فقہ اکبر میں ید اللہ کے لئے بین معنی ہے کہ اللہ کی صفت ہے نہ کہ حقیقت میں ہمارے ہاتھ جیساہاتھ مان بالجملہ مسئلہ ایسا نہیں کہ عوام میں بیان کیا جائے حدیث میں ہے: ”أمرنا أن نكلم الناس على قدر عقولهم (۱) لوگوں سے ان کی سمجھ کے لائق بات کرو ۔ امام مذکور پر اللہ کے لئے مطلقا ہاتھ ثابت کرنے کی وجہ سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) معاذ اللہ العظیم۔ اللہ تعالی غلطی اور بھول سے پاک ہے، قال تعالى: لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسى (٢) اس پر تو بہ تجدید ایمان و تجدید نکاح بشر طیکہ بیوی رکھتا ہو لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله ۲۸ / ذی قعده ۱۳۹۵ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم محمد نصیر الدین،خطیب جامع مسجد جھریا احتشام الدین زیدی سہسرام الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم الا جو بہ کلہا صحیحہ ۔ واللہ تعالی اعلم مشتاق احمد نظامی مہتم دار العلوم غریب نواز الہ آباد ریاض احمد سیوانی غفر له دارالافتا منظر اسلام بریلی شریف