اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے والے مولوی پر حکمِ کفر و توبہ
دعوت دی جاسکتی ہے کہ نہیں؟ ، ایسے مولوی صاحب سے اسلامی تعلقات قائم کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ برائے کرم کتب معتبرہ سے حوالہ دیتے ہوئے جواب دینے کی زحمت گوارہ فرما ئیں ۔ فقط المستفتی :عبدالصمد خان متولی نئی مسجد مہاراج گنج سیوان
الجواب: (1) مولوی مذکور نے اگر فی الواقع وہ کلمہ ملعونہ کہا جو سوال میں مذکور ہوا کہ اگر محمد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا تو اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی رکھتا ہے لازم ہے۔ اس کے اس مقال کا صریح مفاد یہ ہے کہ معاذ اللہ اللہ تعالی حادث ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے حدوث کا سبب ہیں اور یہ صریح کفر، آیات و احادیث و اجماع امت کا انکار ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۱) وہی اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہیں وہی آخر ہے کہ سب کے فنا کے بعد وہی دائم و باقی وہی اپنے آثار قدرت سے ظاہر و ہی اپنی کنہ ذات کے اعتبار سے مخلوق کی نظروں سے باطن اور وہی ہرشئی کا جاننے والا ہے۔ حدیث میں ہے: كان الله و لم يكن معه شئ غیره (۲) اللہ تعالی تھا اور اس کے ساتھ کچھ نہ تھا اس کے علاوہ یونہی اس کا دوسراکلمہ ملعونہ کہ ”جب اللہ تعالی کو ۔ الخ، بیہودہ ہذیان وکفر صریح ہے، بدیہی ہے کہ اللہ تعالی کے صفات حوادث و تغیرات سے پاک ہیں اور گد گدی اور احساس میں تغییرات حادثہ ہیں جنکی اضافت اللہ تعالی کی طرف کفر وسوء ادب ہے وہی تغیرات حوادث اور حوادث کو پیدا فرمانے والا ہے بغیر اس کے کہ اس پر تغیر طاری ہو۔ علامہ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی نے کفریات میں شمار فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے لئے ایسی (1) سورۂ حدید: ۳ (۲) كنز العمال كتاب العظمة من قسم الاقوال ج ١٠ ، ص ۱۶۷ ، حدیث نمبر ۲۹۸۳۶، مطبع دار الكتب العلمية بيروت صفت مانے جو اجماعا اس سے منفی ہے یا ایسی صفت کی نفی کرے جو اس کے لئے ثابت ہے۔ او نفى ماهو ثابت لله تعالى بالاجماع المعلوم من الدين بالضرورة كا نكار اصل نحو علمه او قدرته او عونه يعلم الجزئى او اثبات ما هو منفی عنه کذالک کاللون کذافی الزواجى ملتقطا (1) امام حجۃ الاسلام محمد غزالی نے احیاء علوم الدین میں فرمایا: وو ومثال الخطأ فيه: هذا البيت بعينه لو سمعه في نفسه و هو مخاطب به ربه عز وجل فيضيف التلون الی اللہ تعالی فیکفر “۔(۲) اسی میں ہے: ”بل ینبغی ان يعلم انه سبخنه و تعالى يلون ولا يتلون، ويغير ولا يتغير، بخلاف عبادہ الخ (۳)۔ واللہ تعالی اعلم (۲) قرآن عظیم اور حدیث میں ید (ہاتھ ) کی اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی ہے اور یہ متشابہات میں سے ہے یعنی جس کی قطعی مراد اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ اور محکم وہ ہے جوارشاد ہوا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَي (٢) کہ اللہ کے مثل کوئی بھی نہیں اور متشابہات میں مذہب سلف یہ کہ اس کے ظاہر سے اللہ کو منزہ جانتے ہیں اور جو اس کی مراد ہے اللہ کی طرف اس کا علم مفوض کرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مذہب خلف یہ ہے کہ وہ تاویل صحیح شرعی کو (1) الزواجر عن اقتراف الكبائر ، باب الكبيرة الاولى الشرك الاكبر للعلامة شهاب الدين (۲) احياء علوم الدین، ج ۴، ص ۴۷۸، کتاب السماع والوجد الباب الثاني في أثار السماع وأدابه المقام الاول في الفهم، مطبع دار المنهاج للنشر والتوزيع المملكة العربية السعودية جدة (۳) احیاء علوم الدين، ج ۴، ص ۴۷۸ ، كتاب السماع والوجد الباب الثانى فى أثار السماع وأدابه المقام الاول في الفهم، مطبع دار المنهاج للنشر والتوزيع المملكة العربية السعودية جدة (۴) سورة الشورى: ا ا جائز رکھتے ہیں بنا بریں مفسرین کرام نے ید سے قدرت کو مرا دلیا اور فقہ اکبر میں ید اللہ کے لئے بین معنی ہے کہ اللہ کی صفت ہے نہ کہ حقیقت میں ہمارے ہاتھ جیساہاتھ مان بالجملہ مسئلہ ایسا نہیں کہ عوام میں بیان کیا جائے حدیث میں ہے: ”أمرنا أن نكلم الناس على قدر عقولهم لوگوں سے ان کی سمجھ کے لائق بات کرو ۔ امام مذکور پر اللہ کے لئے مطلقا ہاتھ ثابت کرنے کی وجہ سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) معاذ اللہ العظیم۔ اللہ تعالی غلطی اور بھول سے پاک ہے، قال تعالى: لَّا يَضِلُ رَبِّي وَلَا يَنسى اس پر تو بہ تجدید ایمان و تجدید نکاح بشر طیکہ بیوی رکھتا ہو لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خان قادری از هری غفرله ۲۸ / ذی قعده ۱۳۹۵ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم محمد نصیر الدین،خطیب جامع مسجد جھریا احتشام الدین زیدی سہسرام الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم الا جو بہ کلہا صحیحہ ۔ واللہ تعالی اعلم مشتاق احمد نظامی مہتم دار العلوم غریب نواز الہ آباد ریاض احمد سیوانی غفر له دارالافتا منظر اسلام بریلی شریف