اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کے متعلق غلط بیانی کا حکم
خدا بہت سی جگہوں میں حاضر و ناظر نہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں“ کہنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک مولوی صاحب نے دوران تقریر یوں کہہ دیا کہ خدا بہت سی جگہوں میں حاضر و ناظر نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اس معاملہ کو لیکر لوگ آپس میں الجھ پڑے اور مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور کئی جگہوں سے لوگوں نے فتویٰ منگوالیا مولوی صاحب کو مرتد مشرک قراردیا اور نکاح دوبارہ کرنے کا حکم صادر کر دیا بہر کیف آپ صحیح مسئلہ سے کتابوں کا حوالہ دیکر جلد اس سوال کا جواب دیں خدا کس کس مقام پر حاضر و ناظر نہیں ہے یہاں معاملہ کو لیکر زبردست ہنگامہ
الجواب: حاضر و ناظر ہونا جسم و خاصہ جسم ہے اور اللہ تعالیٰ خواص جسم سے منزہ ہے اسی معنی کے اعتبار سے وہ کہیں کسی مکان میں حاضر نہیں ہے اور نہ جس معنی میں ناظر صفت بشر ہے ، اس معنی میں ناظر ہے، اسی لئے علمائے کرام نے اللہ تعالیٰ پر حاضر و ناظر کے اطلاق سے منع فرمایا اور حاضر و ناظر کا خدا پر اطلاق سے ممانعت کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسماء الہی تو قیفیہ ہیں ۔ یعنی اپنی رائے سے خدا کا نام رکھنا جائز نہیں۔ قال تعالى : وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ الآية (1) بلکہ کتاب وسنت و اجماع سے جو اسماء الہیہ ثابت ہیں انھیں پر اختصار واجب ہے۔ واعظ مذکور نے صاف صاف خدا پر حاضر و ناظر کا اطلاق کیا جو ناجائز ہے اور بعض جگہ حاضر و ناظر مان کر عقیدہ اہلسنت کے خلاف کا مرتکب ہوا یہ خود بہت سخت ہے پھر یوں بہ طور تقابل کہا کہ اللہ تعالیٰ بہت سی جگہوں میں حاضر و ناظر نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر وناظر ہیں، یہ صریح تنقیص کا کلمہ ہے جس سے تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶/شعبان المعظم ۱۳۹۹ھ صح الجواب : بیشک اللہ تعالیٰ ہرشی کو محیط، ہرشی پر شہید، ہرشی کو جاننے والا ، ہرشخص کو دیکھنے اور سننے والا ، ہرشی پر قدیر ہے۔ لیکن زمان و مکان و جہت سے قطعا وجو با ویقینا پاک و منزہ ہے بدیہیات ایمانیہ وضروریات دینیہ میں سے ہے کہ زمان و مکان و جہت کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا تو ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی اللہ تعالی بغیر کسی زمان و مکان و جہت کے ہمیشہ سے موجود تھا تو اب وقت ،سمت اور جگہ پیدا (1) سورة الاعراف: ۱۸۰ فرمانے کے بعد بھی وہ جگہ اور وقت وسمت سے اسی طرح پاک و منزہ ہی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: يكفر باثبات المكان لله تعالى، فلو قال: (از خدا هیچ مکان خالی نیست ) یکفر “ (۱) یعنی اللہ تعالی کے لئے جگہ اور مکان ثابت کرنے سے کافر ہو جائے گا تو اگر کوئی کہے کہ خدا سے کوئی مکان خالی نہیں، خدا ہر مکان میں، ہر جگہ موجود ہے یعنی باعتبار ذات، تو کافر ہو جائے گا۔ لہذا اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر اس کے حقیقی معنی مراد لیکر کہنا جائز نہیں ہے کہ حاضر کے معنی حقیقی اپنے گھر میں قیام رکھنے والا ،شہر میں آنے والا اور ناظر کے حقیقی معنی گھورنے والا ۔ اور ہر مسلمان پر روشن ہے کہ یہ معانی اللہ تعالیٰ کے لئے عیب ہیں نقص ہیں، قطعا محال بالذات ہیں۔ لہذا ان معنی کے اعتبار سے حاضر و ناظر رب تبارک و تعالیٰ کے لئے بولنا غلط و باطل اور سخت ہولناک بد کام کفر انجام ہے۔ ہاں ! اگر حاضر کے معنی جاننے والا اور ناظر کے معنی دیکھنے والا مراد لے کر کہے تو کافر نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے: ويا حاضر و یا ناظر لیس یکفر (۲) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو اے حاضر اے ناظر“ کہے تو صحیح یہی ہے کہ کافر نہ ہوگا تو جب ا۔ حاضراے ناظر“ کہنے کا حکم یہ ہے تو ہر جگہ یا بعض جگہ سے مقید کر کے کہنے میں ضرور کلام کا فساد ہے اور اللہ تعالیٰ کے باب میں ایسے الفاظ کا استعمال جائز نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷٫۳۱ ۱۹۷۹ء