بے بنیاد باتیں بیان کرنے والے کج بحث کے پیچھے نماز کا حکم
سوال
زید نے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام بنی نضیر ملک نہیں گئے تو وہاں کے لوگ اسی ہزار کی تعداد میں تھے سب مسلمان ہو گئے اور پھر پلٹ کر اسی واقعہ میں بیان کیا۲۲ ہزار مسلمان ہوئے بعد اختتام تقریر جب سوال کیا گیا تو زید نے ادھر ادھر کی باتیں بتائیں کسی مسئلے پر صیح گفتگو نہ کی بلکہ اپنی ضد کی ۔ عرض یہ ہے جو شخص ایسی بے بنیاد باتیں و مسئلے بیان کرے ایسے کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ ایسا کہنا اور کہنے والا شرعا کیسا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
جو شخص ایسی بے بنیاد باتیں و مسئلے بیان کرے اور اپنی ضد پر قائم رہے، ان سے ہر لمحہ احتر از لازم ہے اور انھیں اپنی مساجد سے باز رکھنا ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۱۷۲–۱۷۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بنی نضیر کی تحقیق کہ وہ قبیلہ ہے یا ملک اور نون کا تلفظ
باب: کتاب العقائد
اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کے متعلق غلط بیانی کا حکم
باب: کتاب العقائد
انبیائے کرام کی تعداد کو اٹھارہ ہزار تک منحصر کرنے کی غلطی
باب: کتاب العقائد
کلمہ ملعونہ اگر مجد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا صریح کفر ہے، اللہ تعالی غلطی اور بھول سے پاک ہے، اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک مارا کہنا کیسا؟
باب: کتاب العقائد
آیت کریمہ ”استعينوا بالصبر والصلوة“ کے غلط ترجمہ پر گرفت
باب: کتاب العقائد