انبیائے کرام کی تعداد کو اٹھارہ ہزار تک منحصر کرنے کی غلطی
سوال
زید نے کہا کہ : دنیا میں صرف ۱۸ ہزار انبیاء تشریف لائے ہیں بس ! کیا صحیح ہے؟ اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو زید کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۵) ایک روایت میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار اور دوسری میں دو لاکھ چوبیس ہزار وارد ہیں اور صحیح یہ ہے کہ جتنے انبیائے کرام کا تفصیلاً قرآن میں ذکر ہے، ان میں سے ہر ایک پر تفصیلاً ایمان لا زم اور باقی پر مجملا بلا تعیین عدد ایمان رکھیں زید نے غلط کہا، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۱۷۲–۱۷۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
آیت کریمہ ”استعينوا بالصبر والصلوة“ کے غلط ترجمہ پر گرفت
باب: کتاب العقائد
بنی نضیر کی تحقیق کہ وہ قبیلہ ہے یا ملک اور نون کا تلفظ
باب: کتاب العقائد
نماز کے علاوہ دیگر فرائض کا انکار کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
بے بنیاد باتیں بیان کرنے والے کج بحث کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب العقائد
تارک نماز کی تکفیر سے متعلق حدیث کی وضاحت
باب: کتاب العقائد