کلمہ ملعونہ اگر مجد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا صریح کفر ہے، اللہ تعالی غلطی اور بھول سے پاک ہے، اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک مارا کہنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ:
مسئله - ۲۴ تا ۲۶ کلمہ ملعونہ اگر مجد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا صریح کفر ہے، اللہ تعالی غلطی اور بھول سے پاک ہے، اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک مارا کہنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ: (1) ایک قصبہ کے اندر ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں علاوہ علمائے کرام کے مفتی ثناء اللہ صاحب بنارسی و مفتی انیس عالم سیوانی اور مدرسہ عزیزیہ اشرفیہ مہاراج گنج کے مولوی عبدالعزیز صاحب جلسہ میں تشریف فرما تھے تو دوران تقریر میں مہاراج گنج کے مولوی عبدالعزیز صاحب نے اس گستاخانہ جملے کو استعمال کیا ( کہ محمد نہ ہوتے تو اللہ نہ ہوتا ) اور جب اللہ کو گدگدی محسوس ہوئی تو محمد کو پیدا کیا جب یہ نا روا الفاظ مولوی موصوف نے استعمال کیا تو مفتیان کرام جو وہاں موجود تھے انھوں نے مولوی موصوف کی تقریر کو بند کرا کر از سرنو تو به و استغفار کرا کر کلمہ پڑھایا لیکن جب مولوی موصوف مہاراج گنج آئے تو لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوا تو انھوں نے انکار کر دیا کہ میں نے ایسے الفاظ پر تو ہ نہیں کیا ہے ۔ یہ غلط ہے۔ لیکن مفتیان کرام سے جب اس بات کی چھان بین کی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ یہ واقعہ صحیح ہے لیکن مولوی موصوف تو بہ اور کلمہ کو مانے پر تیار نہیں ہیں اس پر شرعا کیا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ بینوا تو جروا (۲) ہمارے قصبہ مہاراج گنج کی شاہی مسجد میں ربیع الثانی کا سالانہ جلسہ ہوا کرتا ہے اس مسجد میں مولوی عبد العزیز صاحب کی تقریر ہو رہی تھی تو مولوی موصوف نے دوران تقریر میں یہ کہا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نرفعے میں پڑ گئے تھے ۔ اور کافروں نے گھیر لیا تھا۔ تو اللہ تعالی نے اپنے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک کر مارا، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا کہ منگاؤ فتویٰ کتنا منگاؤ گے میں پھر خدا کا ہاتھ ثابت کرتا ہوں حکم سے مطلع کیا جائے ۔ (۳) مہاراج گنج ہی کے قریب متصل ایک گاؤں ہے وہاں بھی دوران تقریر میں مولوی عبد العزیز صاحب نے کہا : کہ اللہ تعالی کا فرمان : {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ} اس بارے میں اللہ تعالی کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا بلکہ اذکر کم فاذکرونی“ کہنا چاہئے تھا سو غلطی کیا۔ ان سب باتوں کو لے کر مسلمانان مہاراج گنج میں سخت اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ دو پارٹی ہوگئی ہے یہ مولوی موصوف عالم ہونے کا بھی دعوی کرتے ہیں حالانکہ عالم کی سند نہیں ہے، صرف مولوی تک ہیں اور عالم کا دعوی کر کے لوگوں میں فتنہ فساد پیدا کرتے ہیں لہذا ان تینوں مسئلوں میں مفتیان کرام کا شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا کیا ان کی بیوی ان کی زوجیت میں رہ سکتی ہے بلا نکاح ؟، ایسے مولوی کو میلا دجلسہ وغیرہ میں