عقیدہ اہل سنت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وجود کی تحقیق
دربارہ وحدۃ الوجود ایک تحقیق! بخدمت اقدس حضرت علامہ اختر رضا خان صاحب از ہری مدظلہ العالی ہدیہ سلام مسنون مضمون ” مولانا عبدالرحمان لکھنوی اور تصوف قدرے تبدیلی کے ساتھ پاکستان بھیجا تھا جو ماہنامہ ضیاء حرم لاہور بابت ماہ اگست ۱۹۷۹ء میں بنام ” حضرت علامہ عبد الرحمان لکھنوی‘ چھپا تھا ضیاء حرم کی ایک کاپی ارسال خدمت ہے حضرت رسالہ پر نظر ڈالیں اور ملاحظہ فرمائیں کہ یہ اہلسنت کے حق میں مفید ہے یا مضر۔ میرا یہ تطفل ملاحظہ فرمائیں۔ (صفی احمد قادری)
الجواب: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفى لاسيما سيدنا المصطفى واله نجوم الاهتداء وصحبه مصابيح الدجى وعلماء امته سرج الآخرة والدنيا (1) عقیدہ جماہیر اہل سنت یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ شانہ واحد ہے نہ عدد سے خالق ہے نہ علت سے فعال ہے نہ جوارح سے قریب ہے نہ مسافت سے، حیات و کلام وسمع و بصر و ارادہ و قدرت و علم وغیر ہا تمام صفات کمال سے از لا و ابدا موصوف اور تمام شیون شین عیب سے اولا وآخر ابری، ذات پاک اس کی نہ ضد وشبہ مثل و کیف و شکل و جسم و جهت و مکان و امروز زمان سے منزہ جس طرح ذات کریم اس کی مناسبت ذوات سے مبرا، اسی طرح صفات کمالیہ اس کی مشابہت صفات سے معرا تمام عزتیں اس کے حضور پست اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست۔ {كُلُّ شَيْءٍ هَالِكَ إِلَّا وَجْهَهُ الآية } وجود واحد، موجود واحد باقی سب اعتبارات ہیں، ذرات اکو ان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے اور اس کے آفتاب وجود کا ایک پر تو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے اور اس نسبت و پر تو سے قطع نظر، نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت اوج وحدت سے حضیض اثنینیت میں اتر آۓ ”هو ولا موجودالاهو “ آیت کریمہ سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ“۔ جس طرح شرک فی الالوہیتہ کو رد کرتی ہے یونہی اشتراک فی الوجود کی نفی فرماتی ہے۔ ملخصا (۲) ان کلمات طیبات میں چند جواہر زواہر وحدۃ الوجود کے بھی آگئے جو خلاصہ تحقیق و عطر دقیق ہیں حضرات صوفیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرار ہم کے کلمات کو جو سمجھنے کا اہل نہیں اسے اسی قدر پر قناعت لازم اور تفصیل کی ہوس حرام بد کام ضلالت انجام ہے اسی لئے علماے کرام نے کتب صوفیہ کا مطالعہ حرام بتایا بلکہ خود صوفیہ کرام نے ممانعت فرمائی شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی ” رعاية الانصاف والاعتدال“ میں فرماتے ہیں: ”ومختار شیخ جلال الدین سیوطی که از علماء متاخرین حدیث است درشان شیخ آنست که اعتقاد ولايته وتحريم النظر في كتبه (۱) اسی میں ہے: ”و تحریم النظر در کتب ایشاں خود مذہب ایشان است می گوید و نحن قوم يحرم النظر في كتبنا الالمن الخ“(۲)۔ یہی شیخ محقق اصول الطریقة لكشف الحقیقۃ میں فرماتے ہیں: فائده دیگر است متعلق بمطالعه کتب ایس قوم و تحاشی از توسعه نظر در مصنفات ایشاں بے تمیز تفصیل والله يقول الحق ويهدى السبیل (۳) اسی میں ہے: و شیخ ذکره الله بالخیر در باب فصوص و فتوحات و امثال آن می فرمود که از واضحات آن محظوظ باید شد و در مہمات و موہمات آنها خوض نکر دو می فرمودند در میں جاز ہر ہا است شکر اندود کرده الخ (۴)۔ اسی میں سیدی احمد ابن زروق سے ناقل : ”حذر الناصحون من تلبيس ابليس ابن الجوزى وفتوحات الحاتمي بل كل كتبه او جلها و كابن سبعين و ابن الفارض ومن يحذو حذوهم ومن مواضع من الاحياء للغزالى جلها في المهلكات منه والنفح والتسوية له والمظنون من غير اهله ومعراج السالكين له والمنقذ ومواضع من قوة القلوب لابي طالب المكى و كتاب السهروردى ونحوهم فلزم الحذر من موارد الغلط لاتجنب الجملة ومعادات العلم ولايتم ذلك الابثلاث قريحة صادقة وفطرة سليمة واخذهابان وجهه و تسلیم ماعداه و الاهلک الناظر فيه باعتراض علی اهله و اخذ الشئ على غير وجهه فافهم (1) (۳) یہی گروہ صوفیہ اپنی کتابوں کے مطالعہ کے لئے اہلیت سے پہلے شرط کرتا ہے کہ آدمی کا عقیدہ مذہب اہلسنت پر مستحکم ہو یوں کہ اصلا کسی عقیدہ اہلسنت میں تردد نہو ورنہ ان کی کتابوں کا مطالعہ سخت آفت ایمان ہے۔ اسی اصول الطریقہ میں سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے ہے: می فرمودند اول باید که عقد قلب بمذہب اہلسنت و جماعت محکم شده باشد و تردد و تذبذب در آنجا نمانده بعد ازاں اگر از کتب قوم محظوظ شوند و مستفید گردند بسلامت اقرب است والا آنکه هنوز اعتقاد شریعت درست نا کرده و عقد اسلام محکم ناشده هم از اول در مہمات و مو ہمات و مشکلات ایں قوم خوض کنند محل آفت است (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم اس ارشاد ہدایت بنیاد کا صریح مفاد یہی ہے یہ مذہب اہلسنت ہی مدار کار واصل ارشاد ہے اور اسے چھوڑ کر صوفیہ کے ان کلمات کی طرف جدول نظر جو بظاہر عقیدہ اہلسنت کے خلاف ہوں دین ضلال اصل وفساد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ارشاد مذکور کو حضرت شیخ ابن عربی قدس سرہ سے خوب ترشح کہ ارباب احوال کا جو قول ظاہر شرع کے خلاف ہو اگر چہ اس میں توقف و تسلیم مراد قائل و عدم انکار کا حکم ہے مگر اس کا ظاہر کہ خلاف شرع ہے لائق اتباع نہیں تصریح لیجئے ۔ حضرت شیخ ممدوح محقق دہلوی قدس سرہ القوی اسی رسالہ رعایۃ الانصاف میں فرماتے ہیں : از واضح واضحات واجلی بدیهیات است که طریق قویم و منسج مستقیم اعتقاد و عملا طريقا سلف صالح است که موافق کتاب اللہ وسنت رسول الله است و هر چه ند موافق کتاب وسنت باشد باطل و از حالیه قبول عاطل است و از بعض مشایخ از ارباب احوال نیز ہر کہ بہت طفح وسکر و غلبہ حال نہ بریں منوال مقال آورده محل اقتداء مستحق اتباع نیست فالحق احق ان يتبع وماذا بعد الحق الا الضلال- اه“ (۱) اسی میں قواعد الطریقہ سیدی احمد زروق سے ہے: ”مبنى العلم على البحث والتحقيق ومبنى الحال على التسليم والتصديق فاذا تكلم العارف من حيث العلم نظر في قوله باصله من الكتاب والسنة وآثار السلف لان العلم معتبر باصله و اذا تكلم من حيث الحال سلم له ذوقه اذ لا يوصله اليه الا بمثله فهو معتبر بوجدانه في العلم به مستندلامانة صاحبه ثم لا يقتدى به لعدم عموم حكمه الا فی حق مثله - اه (۲) نیز اسی میں انھیں ممدوح مذکور سے وہ منقول جو مذکورہ بالا سے سخت تر ہے چنانچہ فرماتے ہیں: يعتبر الفرع باصله وقاعدته فان وافق قبل و الا رد على مدعيه ان تأهل واول عليه ان قبل او اسلم له ان جلت مرتبة علما وديانةثم هو غير قادح في الاصل لان فساد الفاسد اليه يعود ولا يقدح في صلاح الصالح شيئا فغلاة المتصوفة كاهل الاهواء من الاصوليين وكالمطعون عليهم من المتفقهين يرد قولهم ويجتنب فعلهم ولايترك المذهب الحق الثابت بنسبتهم له وظهورهم فيه - اه (۳) (۵) وحدة الوجود میں جو سخن مجمل سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز سے نقل ہوئے وہی قول فیصل ہے اور تفصیل اس کی سخت مبہم و موہوم و مشکل ہے یہی وجہ ہے، کہ صوفیہ خود اسے ہر کس و ناکس سے بیان نہیں کرتے اور اس کی اشاعت سے منع فرماتے ہیں اور عوام تو عوام علمائے ظاہر بلکہ ان صوفیہ کو بھی جنہوں نے راہ سلوک ہنوز طے نہ کی ہو اس کے فہم کا اہل نہیں سمجھتے۔ چنانچہ حاجی صوفی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اپنے رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں: این مسئلہ وحدۃ الوجود چناں نیست بلکه در القانہ تصدیق قلبی و تیقین کف لسان واجب است، چرا که اسلام شرعی تعلق با خدا و با خلق میدارد و اسلام حقیقی محض تعلق بخدا دارد و آنجا تصدیق با قرار ضرور است اینجا فقط تصدیق باید ۔ سوائے آں در استفسار این مسئلہ فائدہ ہمیں کہ اسباب ثبوت این مسئله بسیار نازک و نہایت دقیق ۔ فہم عوام بلکہ فہم علمائے ظاہر کہ از اصطلاح عرفا عاری اند، قوت درک آن نمی دارد، چه علماء بلکه صوفیائے کہ ہنوز سلوک خود تمام نه کرده باشند و از مقام نفس گذشته بمرتبه قلب نارسیده از یں مسئله ضررمی یا بند - از مکر نفس و تزلزل و لغزش پا در چاه اباحت و قعر ضلالت سرنگوں می افتند بلکه گروه با افتاده اند کما شهدنا هم نعوذ بالله من ذالک جناب ہم نیکومی دانند ایں مسئلہ خاصیت عجیب می دارد ۔ بعض را بادی و بعض را مضل (1) (1) عینیت واتحاد میان خالق و مخلوق کا قول صوفیہ کہ مہمات و مشکلات میں اسی غلو اور ان کی اصطلاح سے ناواقفی کا نتیجہ ہے اور اسے صوفیہ صافیہ کا مذہب سمجھنا جہالت ہے وہ صاف صاف اتحاد خالق و مخلوق کو الحاد وزندقہ بتا رہے ہیں۔ یہی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں : بدان که در عبد ورب عینیت حقیقی لغوی ہر کہ اعتقاد دارد غیریت جمیع وجوه انکار کند ملحد وزندیق است ازین عقیده که در عابد و معبود و ساجد و مسجود هیچ گونه فرقے نمی ماند ایں غیر واقع است (۲) بلکہ وہ جو عینیت بولتے ہیں وہ اصطلاح ہے جو عینیت کے ساتھ مجتمع ہو جاتی اور اس کا مرجع و مال وہی وحدة موجود مطلق و وحدۃ وجود حقیقی مطلق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کے اعتبارات و ظلال وعکوس ہیں جن کے اوپر احکام حدوث وفنا و تغییر وزوال جاری ہوتے ہیں اور وہ موجود مطلق قدیم و باقی حدوث وفنا سے منزہ تغیر و تبدل سے معرا، لہذا ایک کا دوسرے پر اطلاق الحاد و زندقہ ہے ۔ اسی رسالہ وحدۃ الوجود میں ہے: در عبد ورب عینیت و غیریت ہر دو ثابت و تحقق است آن بوجبے و این بوجہے اگر چه در بادی النظر اجتماع ضدین در شخص واحد محال می نماید ۔ (۱) اسی میں ہے کہ "کسانیکه بجر دخوض در مسئله وحدة الوجود وزندقه افتاده اند از نا دانستن مسئله عینیت و غیریت بود ست - اھ (۲) الروض المجود مصنفہ علامہ فضل حق خیر آبادی میں ہے: فاحكام التعينات بماهيى تعينات لاتسرى الى الحقيقة المطلقة بما هي هي ولا احكامها بما هي هي تسرى الى التعينات ولا حكم تعين يسرى الى تعين اخر فلا يجوز ان يسند الى الحقيقة الحقة المطلقة ما يستند الى التعينات من الامكان والبطلان والمذلة والهوان والخسار والافتقار والخساسة والنجاسة والجوهرية والعرضية والكسافة و الجسمية واللذة والالم والحدوث والعدم والجزئية والتاليف والعبودية والتكليف والتقوى والثواب والطغوى والعقاب الى غير ذالک لان تلك الحقيقة الحقة واجبة فلاتبطل وهكذا كما لا يجوزان يسند الى التعين بما هو تعين ما يستند الى الحقيقة المطلقة بما هى هى من الاطلاق والوجوب والقدم والكمال والجمال والعزة والجلال والقهر والسلطان الی غیر ذالک و کمالا یصح ان يسندالی تعین ما يستند الى تعين آخر ولكل من مراتب الاطلاق والتعين اسم يخص بها و احکام مرتبة عليها و آثار مستندة اليها واطلاق اسم مرتبة الاطلاق على مرتبة من مراتب التعين و اطلاق اسم مرتبة من مراتب التعين على