کتب تصوف کے مطالعہ کے لیے عقیدہ اہل سنت میں استحکام کی ضرورت
دربارہ وحدۃ الوجود ایک تحقیق! کیا ان صوفیانہ اقوال اور وحدت الوجود کی بحثوں کو عوام میں پھیلا سکتے ہیں؟ اور کیا ان کا مطالعہ ہر ایک کے لیے جائز ہے؟
(۳) یہی گروہ صوفیہ اپنی کتابوں کے مطالعہ کے لئے اہلیت سے پہلے شرط کرتا ہے کہ آدمی کا عقیدہ مذہب اہلسنت پر مستحکم ہو یوں کہ اصلا کسی عقیدہ اہلسنت میں تردد نہو ورنہ ان کی کتابوں کا مطالعہ سخت آفت ایمان ہے۔ اسی اصول الطریقہ میں سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے ہے: می فرمودند اول باید که عقد قلب بمذہب اہلسنت و جماعت محکم شده باشد و تردد و تذبذب در آنجا نمانده بعد ازاں اگر از کتب قوم محظوظ شوند و مستفید گردند بسلامت اقرب است والا آنکه هنوز اعتقاد شریعت درست نا کرده و عقد اسلام محکم ناشده هم از اول در مہمات و مو ہمات و مشکلات ایں قوم خوض کنند محل آفت است۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ اس ارشاد ہدایت بنیاد کا صریح مفاد یہی ہے یہ مذہب اہلسنت ہی مدار کار واصل ارشاد ہے اور اسے چھوڑ کر صوفیہ کے ان کلمات کی طرف جدول نظر جو بظاہر عقیدہ اہلسنت کے خلاف ہوں دین ضلال اصل وفساد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم