ارباب احوال کے خلاف شرع کلمات میں عدم اتباع کا اصول
دربارہ وحدۃ الوجود ایک تحقیق! صوفیائے کرام کے وہ اقوال جو بظاہر شریعت کے خلاف محسوس ہوتے ہیں، ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا وہ لائق اتباع ہیں؟
الجواب: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفى لاسيما سيدنا المصطفى واله نجوم الاهتداء وصحبه مصابيح الدجى وعلماء امته سرج الآخرة والدنيا (1) عقیدہ جماہیر اہل سنت یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ شانہ واحد ہے نہ عدد سے خالق ہے نہ علت سے فعال ہے نہ جوارح سے قریب ہے نہ مسافت سے، حیات و کلام وسمع و بصر و ارادہ و قدرت و علم وغیر ہا تمام صفات کمال سے از لا و ابدا موصوف اور تمام شیون شین عیب سے اولا وآخر ابری، ذات پاک اس کی نہ ضد وشبہ مثل و کیف و شکل و جسم و جهت و مکان و امروز زمان سے منزہ جس طرح ذات کریم اس کی مناسبت ذوات سے مبرا، اسی طرح صفات کمالیہ اس کی مشابہت صفات سے معرا تمام عزتیں اس کے حضور پست اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست۔ {كُلُّ شَيْءٍ هَالِكَ إِلَّا وَجْهَهُ الآية } () وجود واحد، موجود واحد باقی سب اعتبارات ہیں، ذرات اکو ان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مجہولۃ الکیف ہے جس کے لحاظ سے من و تو کو موجود و کائن کہا جاتا ہے اور اس کے آفتاب وجود کا ایک پر تو ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ نگاہ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کر رہا ہے اور اس نسبت و پر تو سے قطع نظر، نہ وہ واحد جو چند کی طرف تحلیل پائے نہ وہ واحد جو بہ تہمت حلول عینیت اوج وحدت سے حضیض اثنینیت میں اتر آۓ ”هو ولا موجودالاهو “ آیت کریمہ سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ“۔ جس طرح شرک فی الالوہیتہ کو رد کرتی ہے یونہی اشتراک فی الوجود کی نفی فرماتی ہے۔ ملخصا (1) (۲) ان کلمات طیبات میں چند جواہر زواہر وحدۃ الوجود کے بھی آگئے جو خلاصہ تحقیق و عطر دقیق ہیں حضرات صوفیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرار ہم کے کلمات کو جو سمجھنے کا اہل نہیں اسے اسی قدر پر قناعت لازم اور تفصیل کی ہوس حرام بد کام ضلالت انجام ہے اسی لئے علماے کرام نے کتب صوفیہ کا مطالعہ حرام بتایا بلکہ خود صوفیہ کرام نے ممانعت فرمائی شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی ” رعاية الانصاف والاعتدال“ (1) سورة القصص: -۸۸ (۲) فتاوی رضویه مترجم ج ۲۹، ص ۳۴۴، ۳۴۳، مطبع برکات رضاپور بندر گجرات میں فرماتے ہیں: ومختار شیخ جلال الدین سیوطی که از علماء متاخرین حدیث است درشان شیخ آنست که اعتقاد ولايته وتحريم النظر في كتبه (۱) اسی میں ہے: ”و تحریم النظر در کتب ایشاں خود مذہب ایشان است می گوید و نحن قوم يحرم النظر في كتبنا الالمن الخ“(۲)۔ یہی شیخ محقق اصول الطریقة لكشف الحقیقۃ میں فرماتے ہیں: فائده دیگر است متعلق بمطالعه کتب ایس قوم و تحاشی از توسعه نظر در مصنفات ایشاں بے تمیز تفصیل والله يقول الحق ويهدى السبیل (۳) اسی میں ہے: و شیخ ذکره الله بالخیر در باب فصوص و فتوحات و امثال آن می فرمود که از واضحات آن محظوظ باید شد و در مہمات و موہمات آنها خوض نکر دو می فرمودند در میں جاز ہر ہا است شکر اندود کرده الخ (۴)۔ اسی میں سیدی احمد ابن زروق سے ناقل : وو حذر الناصحون من تلبيس ابليس ابن الجوزى وفتوحات الحاتمي بل كل كتبه او جلها و كابن سبعين و ابن الفارض ومن يحذو حذوهم ومن مواضع من الاحياء للغزالى جلها في المهلكات منه والنفح والتسوية له والمظنون من غير اهله ومعراج السالكين له (1) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار: از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۶، مطبع مجتبائی دهلی (۲) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار: از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۶، مطبع مجتبائی دهلی (۳) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی، ص ۲۲، ۲۱، مطبع مجتبائی دهلی (۴) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۲۲، مطبع مجتبائی دهلی والمنقذ ومواضع من قوة القلوب لابي طالب المكى و كتاب السهروردى ونحوهم فلزم الحذر من موارد الغلط لاتجنب الجملة ومعادات العلم ولايتم ذلك الابثلاث قريحة صادقة وفطرة سليمة واخذهابان وجهه و تسلیم ماعداه و الاهلک الناظر فيه باعتراض علی اهله و اخذ الشئ على غير وجهه فافهم (1) ،، (۳) یہی گروہ صوفیہ اپنی کتابوں کے مطالعہ کے لئے اہلیت سے پہلے شرط کرتا ہے کہ آدمی کا عقیدہ مذہب اہلسنت پر مستحکم ہو یوں کہ اصلا کسی عقیدہ اہلسنت میں تردد نہو ورنہ ان کی کتابوں کا مطالعہ سخت آفت ایمان ہے۔ اسی اصول الطریقہ میں سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے ہے: می فرمودند اول باید که عقد قلب بمذہب اہلسنت و جماعت محکم شده باشد و تردد و تذبذب در آنجا نمانده بعد ازاں اگر از کتب قوم محظوظ شوند و مستفید گردند بسلامت اقرب است والا آنکه هنوز اعتقاد شریعت درست نا کرده و عقد اسلام محکم ناشده هم از اول در مہمات و مو ہمات و مشکلات ایں قوم خوض کنند محل آفت است (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم اس ارشاد ہدایت بنیاد کا صریح مفاد یہی ہے یہ مذہب اہلسنت ہی مدار کار واصل ارشاد ہے اور اسے چھوڑ کر صوفیہ کے ان کلمات کی طرف جدول نظر جو بظاہر عقیدہ اہلسنت کے خلاف ہوں دین ضلال اصل وفساد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ارشاد مذکور کو حضرت شیخ ابن عربی قدس سرہ سے خوب ترشح کہ ارباب احوال کا جو قول ظاہر شرع کے خلاف ہو اگر چہ اس میں توقف و تسلیم مراد قائل و عدم انکار کا حکم ہے مگر اس کا ظاہر کہ خلاف شرع ہے لائق اتباع نہیں تصریح لیجئے ۔ (1) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۲۲، مطبع مجتبائی دهلی (۲) اصول الطريقة لكشف الحقيقة برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۲۳، مطبع مجتبائی دهلی حضرت شیخ ممدوح محقق دہلوی قدس سرہ القوی اسی رسالہ رعایۃ الانصاف میں فرماتے ہیں : از واضح واضحات واجلی بدیهیات است که طریق قویم و منسج مستقیم اعتقاد و عملا طريقا سلف صالح است که موافق کتاب اللہ وسنت رسول الله است و هر چه ند موافق کتاب وسنت باشد باطل و از حالیه قبول عاطل است و از بعض مشایخ از ارباب احوال نیز ہر کہ بہت طفح وسکر و غلبہ حال نہ بریں منوال مقال آورده محل اقتداء مستحق اتباع نیست فالحق احق ان يتبع وماذا بعد الحق الا الضلال- اه“ (۱) اسی میں قواعد الطریقہ سیدی احمد زروق سے ہے: وو مبنى العلم على البحث والتحقيق ومبنى الحال على التسليم والتصديق فاذا تكلم العارف من حيث العلم نظر في قوله باصله من الكتاب والسنة وآثار السلف لان العلم معتبر باصله و اذا تكلم من حيث الحال سلم له ذوقه اذ لا يوصله اليه الا بمثله فهو معتبر بوجدانه في العلم به مستندلامانة صاحبه ثم لا يقتدى به لعدم عموم حكمه الا فی حق مثله - اه (۲) وو نیز اسی میں انھیں ممدوح مذکور سے وہ منقول جو مذکورہ بالا سے سخت تر ہے چنانچہ فرماتے ہیں: يعتبر الفرع باصله وقاعدته فان وافق قبل و الا رد على مدعيه ان تأهل واول عليه ان قبل او اسلم له ان جلت مرتبة علما وديانةثم هو غير قادح في الاصل لان فساد الفاسد اليه يعود ولا يقدح في صلاح الصالح شيئا فغلاة المتصوفة كاهل الاهواء من الاصوليين وكالمطعون عليهم من المتفقهين يرد قولهم ويجتنب فعلهم ولايترك المذهب الحق الثابت بنسبتهم له وظهورهم فيه - اه (۳) (1) رعاية الانصاف والاعتدال فى اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۳، مطبع مجتبائی دهلی (r) رعاية الانصاف والاعتدال فى اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار از شیخ عبدالحق محدث دهلوی ص ۸۵، مطبع مجتبائی دهلی (۳) رعاية الانصاف والاعتدال في اعتقاد الصوفية من ارباب الحال برهامش اخبار الاخیار: از شیخ عبد الحق محدث دهلوی ص ۸۵، مطبع مجتبائی دهلی (۵) وحدة الوجود میں جو سخن مجمل سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز سے نقل ہوئے وہی قول فیصل ہے اور تفصیل اس کی سخت مبہم و موہوم و مشکل ہے یہی وجہ ہے، کہ صوفیہ خود اسے ہر کس و ناکس سے بیان نہیں کرتے اور اس کی اشاعت سے منع فرماتے ہیں اور عوام تو عوام علمائے ظاہر بلکہ ان صوفیہ کو بھی جنہوں نے راہ سلوک ہنوز طے نہ کی ہو اس کے فہم کا اہل نہیں سمجھتے۔ چنانچہ حاجی صوفی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اپنے رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں: این مسئلہ وحدۃ الوجود چناں نیست بلکه در القانہ تصدیق قلبی و تیقین کف لسان واجب است، چرا که اسلام شرعی تعلق با خدا و با خلق میدارد و اسلام حقیقی محض تعلق بخدا دارد و آنجا تصدیق با قرار ضرور است اینجا فقط تصدیق باید ۔ سوائے آں در استفسار این مسئلہ فائدہ ہمیں کہ اسباب ثبوت این مسئله بسیار نازک و نہایت دقیق ۔ فہم عوام بلکہ فہم علمائے ظاہر کہ از اصطلاح عرفا عاری اند، قوت درک آن نمی دارد، چه علماء بلکہ صوفیائے کہ ہنوز سلوک خود تمام نه کرده باشند و از مقام نفس گذشته بمرتبه قلب نارسیده از یں مسئله ضررمی یا بند - از مکر نفس و تزلزل و لغزش پا در چاه اباحت و قعر ضلالت سرنگوں می افتند بلکه گروه با افتاده اند کما شهدنا هم نعوذ بالله من ذالک جناب ہم نیکومی دانند ایں مسئلہ خاصیت عجیب می دارد ۔ بعض را بادی و بعض را مضل (1) (1) عینیت واتحاد میان خالق و مخلوق کا قول صوفیہ کہ مہمات و مشکلات میں اسی غلو اور ان کی اصطلاح سے ناواقفی کا نتیجہ ہے اور اسے صوفیہ صافیہ کا مذہب سمجھنا جہالت ہے وہ صاف صاف اتحاد خالق و مخلوق کو الحاد وزندقہ بتا رہے ہیں۔ یہی شاہ امداد اللہ مہاجر مکی رسالہ وحدۃ الوجود میں فرماتے ہیں : بدان که در عبد ورب عینیت حقیقی لغوی ہر کہ اعتقاد دارد غیریت جمیع وجوه انکار کند ملحد وزندیق است ازین عقیده که در عابد و معبود و ساجد و مسجود هیچ گونه فرقے نمی ماند ایں غیر واقع است (۲) بلکہ وہ جو عینیت بولتے ہیں وہ اصطلاح ہے جو عینیت کے ساتھ مجتمع ہو جاتی اور اس کا مرجع و مال وہی وحدة موجود مطلق و وحدۃ وجود حقیقی مطلق ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ اس کے اعتبارات و (۱) رسالہ وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ امداداللہ کی ص ۲۱۹ مطبع دار الاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ ،کراچی پاکستان (۲) رساله وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ امداد اللہ کی ص ۲۲۲، مطبع دارالاشاع اردو بازارایم، اے جناح روڈ، کراچی پاکستان ظلال وعکوس ہیں جن کے اوپر احکام حدوث وفنا و تغییر وزوال جاری ہوتے ہیں اور وہ موجود مطلق قدیم و باقی حدوث وفنا سے منزہ تغیر و تبدل سے معرا، لہذا ایک کا دوسرے پر اطلاق الحاد و زندقہ ہے ۔ اسی رسالہ وحدۃ الوجود میں ہے: در عبد ورب عینیت و غیریت ہر دو ثابت و تحقق است آن بوجبے و این بوجہے اگر چه در بادی النظر اجتماع ضدین در شخص واحد محال می نماید ۔ (۱) اسی میں ہے کہ "کسانیکه بجر دخوض در مسئله وحدة الوجود وزندقه افتاده اند از نا دانستن مسئله عینیت و غیریت بود ست - اھ (۲) الروض المجود مصنفہ علامہ فضل حق خیر آبادی میں ہے: فاحكام التعينات بماهيى تعينات لاتسرى الى الحقيقة المطلقة بما هي هي ولا احكامها بما هي هي تسرى الى التعينات ولا حكم تعين يسرى الى تعين اخر فلا يجوز ان يسند الى الحقيقة الحقة المطلقة ما يستند الى التعينات من الامكان والبطلان والمذلة والهوان والخسار والافتقار والخساسة والنجاسة والجوهرية والعرضية والكسافة و الجسمية واللذة والالم والحدوث والعدم والجزئية والتاليف والعبودية والتكليف والتقوى والثواب والطغوى والعقاب الى غير ذالک لان تلك الحقيقة الحقة واجبة فلاتبطل وهكذا كما لا يجوزان يسند الى التعين بما هو تعين ما يستند الى الحقيقة المطلقة بما هى هى من الاطلاق والوجوب والقدم والكمال والجمال والعزة والجلال والقهر والسلطان الی غیر ذالک و کمالا یصح ان يسندالی تعین ما يستند الى تعين آخر ولكل من مراتب الاطلاق والتعين اسم يخص بها و احکام مرتبة عليها و آثار مستندة اليها واطلاق اسم مرتبة الاطلاق على مرتبة من مراتب التعين و اطلاق اسم مرتبة من مراتب التعين على (1) رسالہ وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ۔ امداد اللہ کی ص ۲۲۱ مطبع دار الاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان (۲) رسالہ وحدۃ الوجود از مجموعه کلیات امدادیہ۔ امداد اللہ کی ص ۲۲۱، مطبع دار الاشاعت اردو بازار ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان مرتبة الاطلاق او مرتبة اخرى من مراتب التعين زندقة و الحاد ملتقطا بالجملة (1) وجود واحد مطلق ہے اور عالم میں جو کچھ ہے وہ اسی کے تعینات و اعتبارات و مظاہر ہیں اور وہ تمام اپنے ثبوت و بقا میں اسی موجود مطلق کے محتاج اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ان الله غنى عن العالمين وحدۃ الوجود حق وصرف ہے اور مرتبہ وجود میں فرق اور امتیاز ایمان ہے اور خلط مراتب زندقہ وکفر و مبین خسران ہے۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ فتاوی عزیزی میں فرماتے ہیں: وجود واحد در مراتب وجوب و امکان و قدیم و حادث و مجرد وجسمانی و مومن و کافر و نجس و طاہر ظاہرست لیکن ہر مظہر حکم جدا دارد فرق در احکام مظاہر ضرور است مومن را حکم بنجات است و کافر را حکم بقتل داسرو على هذا القياس در جمیع صفات متضادة چنانچه گفته اند ہر مرتبه از وجود حکمی دارد گر فرق مراتب نہ کنی زندیقے و ہر کہ فرق در احکام نه کند و محض وحدة وجود را ملاحظه نماید خلاف شرع است والحاد و زندقه است، ملخصاً (۲) لہذا حضرات صوفیہ سے جو کچھ موہم عینیت منقول ہو وہ اولاعدم ثبوت پر اور ثانیاً بعد ثبوت غلبہ حال وسکر پر محمول اور اس میں تاویل ضرور اور وہ مستحق اتباع نہیں جیسا کہ ماسبق سے ظاہر اور سب کے لئے یہی ایک جواب بس کہ ان کا کلام عینیت حقیقیہ میں نہیں بلکہ عینیت ان کی ایک اصطلاح ہے جو اتحاد اور عینیت حقیقیہ ہے بے علاقہ ہے خصوصاً ابن عربی کی عبارت منقولہ کے لئے واللہ تعالی ھوالھا دی وھو تعالی اعلم اور شبلی کا عالم کو قدیم بتانا فلاسفہ کی قدیم گمراہی ہے اور باقی جملہ بھی اس کا فی الجملہ مخدوش ہے ابن عربی خود کہتے ہیں : (1) الروض المجود الفصل الاول ص ۱۸ ۱۹ ، مطبع مفید الاسلام حیدر آباد دکن (۲) فتاوی عزیزی ج ۱ ص ۵۱-۵۰ مکتوبات در باب توحید وجودی و شہودی مطبع مجتبائی دہلی (۳) المواهب اللدنية على الشمائل المحمدية ص ، مطبع دار البصائر القاهرة اور ملاحسن کی عبارت سے بھی عینیت مہمہ وجود ثابت نہیں ہوتی تو اس سے استناد کیسا اور آخر میں انھوں نے فرمایا وطن الطور دور از طور اعقل اسے یاد کر کے خود پہ اور دوسروں پر رحم کیجئے اور اس مسئلہ کی اشاعت سے باز آئیے۔ (۷) مسئلہ وحدۃ الوجود جس طرح کہ کتب صوفیہ میں مرقوم ہے چودہ سوسال پرانا نہیں بلکہ صوفیہ کے طبقہ سلف کے بعد پانچ سو سال گذرنے پر ظاہر ہوا۔ اسی فتاوی عزیزی میں ہے: ولیکن بعد از مرور طبقیه سلف از صوفیه و گذشتن پان صد سال از ہجرت نبویه این حضرات دو فرقه شدند جمع کثیر اشارات را بر حقیقت حمل نمودند و قائل شدند با نکه وجود واحد - الخ (۱) ما مر من قبل یہی وجہ ہے کہ آیات واحادیث میں اس کی تصریح نہیں جیسا کہ اشارات را بر حقیقت حمل نمودند ہے عیاں اور اسی وجہ سے اصطلاحات صوفیہ پرشاہ صاحب ممدوح نے بدعت کا حکم لگا یا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں: لفظ وجود مطلق در عرف صوفیه اہلسنت مثل قیصری و فرغانی و مولانا جامی بسیا روار داست و در شرع وارد نه شده پس اطلاق این الفاظ بهر چند بدعت است او بدعت سیئه نخواهد بود (۲) اور اگر بالفرض یہ مسئلہ وحدۃ الوجود قدیم ہو تو ضرور تھا کہ تمام انبیاء اس کی تبلیغ فرماتے کہ توحید ورد شرک سب کا منصب ہے حالانکہ ایسا واقع نہ ہوا۔ ”الروض المحجو د میں فرما یا: لما كانت الانبياء عليهم السلام مبعوثين لتبليغ الاحكام الى كافة الانام وكانت هذه العقيدة اجل من ان تناله عامة الافهام كانت دعوتهم اليها توريطا لهم في الضلالة (1) فتاوی عزیزی ج ۱ ص ۵۰۵۱، مکتوبات در باب توحید وجودی و شہودی مطبع مجتبائی دہلی (۲) شاہ صاحب کا قول و تبعيدا اياهم عن الهدى والدلالة فلو دعت الانبياء اليها فات فائدة الرسالة - الخ۔ (۱) والله تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ے شوال المکرم ۱۳۹۹ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام بریلی شریف