قریش کے قحط کے موقع پر حضور ﷺ کی دعا کا ثبوت
(۳) جب قریش سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے سات برس کے قحط میں مبتلا ہوئے اور حالت بہت ابتر ہو گئی تو ابوسفیان ان کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا آپ اپنے خیال میں رحمتہ اللعالمین بنا کر نہیں بھیجے گئے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ابوسفیان نے کہا کہ بڑوں کو تو آپ نے بدر میں تہ تیغ کر دیا اولا دجور ہی وہ آپکی بدولت اس حالت کو پہونچی کہ مصیبت قحط میں مبتلا ہوئی فاقوں سے تنگ آ گئی لوگ بھوک کی بیتابی سے ہڈیاں چاب گئے مردار تک کھا گئے میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اور قرابت کی آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم سے اس قحط کو دور فرمائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور انہوں نے اس بلا سے رہائی پائی تفسیر قرآن پاک صفحه ۴۱۳ ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی دعا کی تھی جس سے قحط پڑا۔
ہاں حدیث میں ایسا وارد ہوا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم