حضور ﷺ اور حضرت علی کی طرف سماع کی نسبت اور منکرینِ سماع کا حکم
(۳) زید نے یہ بھی بیان کیا کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سماع سنا ہے اس ضمن میں یہ بھی بیان کیا کہ جو لوگ سماع کے منکر ہیں ان سے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں اور سماع سے انکار کرنے والے کو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم عبرتناک سزا دیتے ہیں اس سلسلہ میں ایک روایت بیان کرتا ہے کہ ایک بزرگ کامل نے سماع سننے سے انکار کر دیا اور از روئے شرع اس کو ناجائز بتایا ، فوراً ہی اس بزرگ کامل پر اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے غضب فرمایا وہ عتاب الہی میں مبتلا ہو گئے اور جب تک اپنے عقیدہ سے تو بہ کر کے سماع نہیں سنا اور سماع کے قائل نہیں ہو گئے ، اس مرض و عتاب سے نجات نہیں حاصل ہوئی ۔ وغیرہ بہت کچھ بیان کیا اور اولیاء کاملین کا نام بار بار لے کر اپنی بات کو صحیح ثابت کیا۔ کیا واقعی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سماع سنا ہے اگر نہیں تو زید کا ایسا بیان کرنا تہمت ہے یا نہیں؟ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تہمت لگانے والا کیسا ہے؟ کیا سماع نہ سننے والوں پر مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں اور سزا دیتے ہیں؟ عند الشرع ایسا بیان کرنے والا کیسا ہے؟ مفصل و مدلل جواب مرحمت فرما کر ہدایت ورہنمائی فرما ئیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات پر بطفیل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمتیں فرمائے ۔ سائل : عبد القیوم، محله اعظم نگر، بریلی دوکاندارلنگی سبزی منڈی، کتب خانہ، بریلی
(۳) یہ تمام باتیں زید کی اکاذیب و خرافات ہیں زید نے بے شک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر افترا کیا اور توبہ نہ کرے تو جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم