قصداً قرآن کریم میں کچھ بڑھانا گھٹانا کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ: اگر کوئی شخص پمفلٹ میں یا کتابچہ میں یا تقریر میں قرآن کریم کی تحریف کر دے یعنی ایک آیت شریفہ پیش کرے جس کے درمیان سے ایک مستقل لفظ کو حذف کر دے۔ مثلا : إنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ “ (سورة الهود : ۸۸) میں لفظ استطعت “ کو حذف کر دے اور اس کی نازیبا حرکت پر اسے تو بہ کرنے کے لئے اصرار کیا جائے اور تو یہ نہ کرے بلکہ یوں کہے کہ قرآن کریم میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ تو ایسے شخص پر شریعت حقہ کی رو سے کیا حکم صادر ہوگا؟ از راہ کرم نہایت واضح مفصل طور پر مطلع فرما ئیں۔ عین کرم و نوازش ہوگی۔ لمستفتى :عبدالوحيدغفرله دیوان بازار، کٹک،اڑیسہ
الجواب: قصداً قرآن کریم میں کچھ بڑھانا یا اس سے کچھ کم کرنا یا بدلنا بتصریح علمائے کرام کفر ہے۔ مسح الروض“ میں ہے: كون تعمده کفر افلا كلام فيه (1) اس کا یہ جملہ کہ قرآن کریم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے، تحریف کا استحلال ہے جو کفر ہے۔ اور اس کے قصد میں صریح ہے تو بہ و تجدید ایمان لازم اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی ضرور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ (1) منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ، الفصل في القراءة الخ، ص ۲۷۸، مطبع دار الایمان سهارنپور