راگ راگنی کی طرز پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور اس کے سننے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) زید کہتا ہے کہ قرآن کریم کو راگ راگنی میں سننا جائز ہے راگ راگنی میں سننا چاہئے کئی بزرگوں نے قرآن پاک کو راگ راگنی میں سنا ہے ساتھ ہی زید یہ بھی کہتا ہے کہ ایک ولی کامل نے روز ازل صدائ الست بربکم پوربی راگ میں سنی اور فرمایا کہ اسی وجہ سے مجھے پوربی راگ بہت پسند ہے۔ ہکر کہتا ہے کہ قرآن کریم کا راگ راگنی میں سننا جائز نہیں ہے اور الست بربکم“ کی صدا پورنی راگ میں سنا ولی کامل پر تہمت ہے۔ از روئے شرع قرآن پاک کا راگ راگنی میں سننا کیا جائز ہے؟ کیا کسی ولی کامل نے روز ازل الست بربکم“ کی صدا پوربی راگ میں سنی ہے؟ اگر نہیں تو ولی کامل پر تہمت لگانے والا عند الشرع کیسا ہے؟
الجواب: (1) راگ راگنی سے مراد اگر موسیقی کے نغمات معروفہ ہیں جن میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے حروف میں کہیں بہت زیادتی کہیں کمی ہوتی ہے تو اس طرز پر قرآن عظیم پڑھنا حرام بدکام بدانجام بلکہ مستلزم کفر ہے کہ اس طرز پر قرآن عظیم پڑھنے سے اس کے کلمات میں لا محالہ حروف کم یا زیادہ ہوں گے اور قرآن عظیم میں دانستہ کوئی حرف بڑھانا گھٹانا بلکہ لفظ کی حالت میں ادنی تبدیلی کفر ہے۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: ”کون تعمدہ کفر افلاکلام فیہ‘(۱) معین الحکام میں ہے: من استخف بالقرآن أو بشئ منه أو جحده أو حرفا منه أو كذب بشئ منه أو أثبت ما نفاه أو نفى ما أثبته على علم منه بذلك أو شك فى شئ من ذالك فهو كافر عند أهل العلم بالاجماع وكذا من غير شيئا منه وزاد فيه-الخ (۲) بلکہ گویوں کے ڈھنگ میں قرآن عظیم پڑھنا مطلقاً کفر کہ یہ قرآن عظیم کی اہانت کی صریح امارت ہے۔ جزئیہ اوپر گزرا اور اس سے اصرح وہ ہے جو لسان الحکام میں نصاب سے اور شرح فقہ اکبر (1) منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ، ص ،۷۸ فصل في القراءة والصلوة مكتبه دار الایمان سهارنپور (۲) معین الحكام، فيما يتردد بين الخصمين من الاحكام فصل و من استخف بالقرآن اوبشئ منه ، ج ا ، ص ۱۹۲، مطبع دار الفکر بيروت میں ہے، واللفظ للاول: وفى النصاب رجل قرأ على ضرب الدف او القصب يكفر لاستخفافه بالقرآن (1) اور زید کا وہ ادعاء اولیائے کرام کی اہانت اور صریح افتراء۔ اس پر تو بہ و تجدید ایمان اور تجدید نکاح ( اگر بیوی رکھتا ہو ) فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مروجہ سرود حرام ہے خود سردار اولیاء حضرت محبوب الہی قدس سرہ فرماتے ہیں: مزامیر حرام است (۲) اور اس حرام کو نماز کہ افضل العبادات و اول فرائض ہے، سے افضل بتانا کفر ہے۔ زید پر اس سے بھی تجدید ایمان و تو به لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ تمام باتیں زید کی اکاذیب و خرافات ہیں زید نے بے شک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر افترا کیا اور توبہ نہ کرے تو جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی