نماز کے مقابلے میں سرود و سماع کو افضل سمجھنے والے کے عقیدے کا شرعی حکم
سوال
(۲) زید نے یہ بھی بیان کیا کہ نماز سے سرو د وسماع افضل ہے کیونکہ بارگاہ خداوند قدوس میں سرود درجہ قبولیت رکھتا ہے سرود کے قبول ہونے میں رد کا کوئی شائبہ ہی نہیں ہے جبکہ نماز میں رد ہونے کا احتمال ہے اس لئے سرور و سماع نماز سے نعوذ باللہ افضل ہیں۔ بکر کہتا ہے کہ ایسا کہنا کھلی ہوئی گمراہی و بد دینی ہے۔ از روئے شرع ارشاد فرما ئیں کہ زید و بکر میں کون صحیح ہے؟ نماز وسر و دو سماع میں کون سی چیز افضل ہے؟ زید کا ایسا عقیدہ رکھنا عند الشرع کیسا ہے؟ کیا سرود بارگاہ رب تبارک و تعالیٰ میں درجہ قبولیت رکھتا ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) مروجہ سرود حرام ہے خود سردار اولیاء حضرت محبوب الہی قدس سرہ فرماتے ہیں: وو مزامیر حرام است (۲) اور اس حرام کو نماز کہ افضل العبادات و اول فرائض ہے، سے افضل بتانا کفر ہے۔ زید پر اس سے بھی تجدید ایمان و تو به لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۹۶–۳۹۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
راگ راگنی کی طرز پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے اور اس کے سننے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
حضور ﷺ اور حضرت علی کی طرف سماع کی نسبت اور منکرینِ سماع کا حکم
باب: کتاب العقائد
قصداً قرآن کریم میں کچھ بڑھانا گھٹانا کفر ہے!
باب: کتاب العقائد
اقتباس قرآن کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
مقرر کا توریت، زبور اور انجیل کو جھوٹا کہنا اور ویدوں کو آسمانی کتاب بتانا
باب: کتاب العقائد