اقتباس قرآن کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مطابق مسلک اہل سنت و جماعت ذیل کے مسائل میں کہ: زید جو اپنے کو عالم کہتا ہے اور خود کوسنی ظاہر کرتا ہے حالانکہ اس کا عمل مسلک اہل سنت کے خلاف ہے ۔ مگر لوگ اس کو وہابی کے بجائے سنی عالم سمجھتے ہیں۔ اس لئے کہ زید بڑا چالاک اور ہشیار ہے۔ زید نے ایک پمفلٹ شائع کیا اس میں دیو بند کے محمد طیب مہتم مدرسہ کو مولانا قاری لکھا۔ ان کے دادا قاسم نانوتوی کو مولا نا محمد قاسم نانوتوی لکھا اور پھر آخر میں اپنے دستخط سے پہلے لکھا: (ان اريد الا الاصلاح وما توفيقى الا بالله ) اس پمفلٹ پر علمائے اہل سنت نے اس سے سخت مواخذہ کیا اور فرمایا کہ تم تو بہ کرو تم نے قرآن پاک میں تحریف کیا ہے۔ آیت یوں ہے: {انْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطعتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بالله } زید بضد رہا اور اس نے تو بہ نہیں کیا۔ اور اپنی تائید میں زید نے ایک نامعلوم نو وارد کو ظاہر کیا کہ یہ عالم ہیں اور مفتی بھی۔ اس مفتی نے کہا کہ یہ قرآن پاک نہیں ہے، یہ زید کا کلام ہے۔ لہذا تو بہ ضروری نہیں۔ پھر کہا کہ قرآن میں اضافہ تحریف نہیں ہے۔ اس وہا بڑے خود ساختہ مفتی کے سبب زید بالکل خاموش بیٹھ گیا۔ علمائے اہل سنت کے بار بار مطالبہ پر بھی اس نے تو بہ نہیں کیا۔ براہ کرم جلد جواب سے نوازیں کہ : (1) زید اور اس مفتی کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
عالم مذکور نے قرآن عظیم سے اقتباس فرمایا ہے اور قرآن عظیم سے اقتباس بالا تفاق جائز اور کتب مصنفین میں شائع و ذائع ہے از انجملہ فقہاء کی عادت مستمرہ ہے کہ کتاب الجہاد میں تحریر فرمایا ہے: رد المحتار میں ہے: ان تضع الحرب اوزارها (1) وفى متن الملتقى ومتن المختار وللامام أن ينفل قبل احراز الغنيمة وقبل ان تضع الحرب اوزارها (۲) اسی میں ہے: تنبيه : قولهم ان تضع الحرب اوزارها اقتباس من القرآن و به يستدل على جوازه عندنا كما بسطه الشارح فی الدر المنتقى فراجعه (۳) اقتباس کو تحریف سمجھنا وہابیہ کی جہالت فاحشہ ہے جس سے جملہ فقہاء وعلماء پر طعن ہوتا ہے اور انہیں علمائے اہل سنت بتانا اور مفتی مذکور کو جس نے اقتباس کو جائز بتایا ، وہابی کہنا سخت فریب ہے اور اس بنا پر جو سوالات قائم کئے وہ ساقط ہیں۔ بے شک وہابی کافر ہیں اور اہل سنت انہیں کافر کہتے ہیں ۔ اور ان کے پیچھے نماز نادرست ہے۔ مگر جن کے متعلق سوال ہے وہ وہابی نہیں نہ وہ وہابی کو کافر کہنے سے روکنے والے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم