اقتباس قرآن پر تحریف کا الزام لگانے والے کے متعلق حکم اور اقتباس کرنے والے کا ایمان
سوال
زید نے پمفلٹ میں آیت کا ایک حصہ لکھا (ان اريد الا الاصلاح وما توفيقى الا بالله ) جس پر اسے تحریف کا مرتکب کہہ کر توبہ کا مطالبہ کیا گیا۔ مفتی نے اسے اقتباس قرار دے کر جائز کہا۔ کیا ان دونوں کو مسلمان سمجھنا درست ہے؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
عالم مذکور نے قرآن عظیم سے اقتباس فرمایا ہے اور قرآن عظیم سے اقتباس بالا تفاق جائز اور کتب مصنفین میں شائع و ذائع ہے۔ اقتباس کو تحریف سمجھنا جہالت فاحشہ ہے جس سے جملہ فقہاء وعلماء پر طعن ہوتا ہے۔ مفتی مذکور کو جس نے اقتباس کو جائز بتایا ، وہابی کہنا سخت فریب ہے اور اس بنا پر جو سوالات قائم کئے وہ ساقط ہیں۔ یعنی وہ مسلمان ہیں اور ان کی تکفیر کی کوئی وجہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۳۹۸–۴۰۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اقتباس قرآن کرنے والے امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
اقتباس قرآن کو جائز کہنے والے عالم پر وہابی ہونے کا حکم
باب: کتاب العقائد
حضور ﷺ اور حضرت علی کی طرف سماع کی نسبت اور منکرینِ سماع کا حکم
باب: کتاب العقائد
وہابیوں کی تکفیر کا عمومی شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
نماز کے مقابلے میں سرود و سماع کو افضل سمجھنے والے کے عقیدے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد