مقرر کا توریت، زبور اور انجیل کو جھوٹا کہنا اور ویدوں کو آسمانی کتاب بتانا
دے دیا تو ٹھیک ورنہ گرفتار کر لیا جاتا ہے یا ہو گا دیا جاتا ہے تو اے توریت، زبور و انجیل کے ماننے والو! اے وید اور گرونانک کی چوپائیوں کے ماننے والو! میں تم سے سوال کرتا ہوں کہ توریت کب اور کس پر، زبور اور انجیل کب اور کس پر نازل ہو ئیں تو کیا تو ریت زبور اور انجیل کے ماننے والو یہ آسمانی کتا ہیں جواب دیں گی ؟ نہیں دیں گی جب جواب نہیں دیں گی تو توریت کو ہٹاؤ جھوٹی ہے زبور کو ہٹاؤ یہ جھوٹی ہے، انجیل کو بناؤ یہ جھوٹی ہے (نعوذ باللہ من ذالک) اسی طرح دید اور گرونانک کی چوپائیوں سے پوچھو وہ بھی جواب نہیں دیں گی اس لئے انہیں ہٹاؤ ، اے مسلمان میں تجھ سے سوال کرتا ہوں قرآن مجید کب کہاں سے کس پر اور کس لئے نازل ہوا ؟ تو اے مسلمان ٹھہر جا، قرآن مجید خود جواب دیتا ہے: (۱) شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ [سورة البقرة : ۱۸۵] (۲) فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ [سورة البروج: ٢٢] (۳) نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ [سورة المحمد: ٢] (۴) هُدًى لِلْمُتَّقِينَ [سورة البقره:٢] تیرا نام کیا ہے؟ (۵) بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ [سورة البروج:٢٠] تقریر ختم ہونے کے بعد مقر ر صاحب کو تنہائی میں لے جا کر کہا کہ آپ نے دوران تقریر مذکورہ بالا آسمانی کتابوں کو جھوٹا کہہ دیا۔ تو بہ کیجئے ۔ مقر ر صاحب نے فرمایا کہ میں نے تو اس وقت کی توریت اور زبور اور انجیل کا انکار کیا ہے اور میرا بیان صحیح ہے۔ مقرر ویدوں اور گرو نا تک کی چوپائیوں کو بھی آسمانی کتابیں بتاتے ہیں براہ کرم از راہ شریعت آگاہ فرمائیں کہ مقرر کا بیان صحیح ہے یا معترض کا اعتراض صحیح ہے؟ مقرر کی تقریر کے خلاف شدید پروپیگینڈہ اور سخت مخالفت ہو رہی ہے جس پر کچھ لوگ مارے گئے ہیں۔
الجواب: مقرر نے توریت و زبور و انجیل کے بابت جو کچھ بکا وہ نہایت سخت ہے اور اپنے اطلاق کی وجہ سے نہ صرف ایہام معنی کفری پیدا کرتا ہے بلکہ بہ قرینہ مقابلہ بہ قرآن عظیم ذہن انہیں کتب صحیحہ غیر محرفہ کی طرف متبادر ہوتا ہے۔ اور یہاں مجرد ایہام ممانعت میں کافی تھا چہ جائیکہ متبادر ہونا۔ رد المحتار میں ہے: ”مجرد الايهام كاف في المنع عن التلفظ بهذا الكلام“ بلکہ فتح القدیر میں محض ریحام پر تکفیر کا قول نقل فرما کر اس کی تحسین فرمائی۔ اس کی عبارت یہ ہے: ”وقيل يكفر بمجرد الاطلاق ايضا و هو حسن“ مگر یہ ارشاد فقہا کے طور پر جو معنی کفری کا احتمال بھی تکفیر میں کافی جانتے ہیں۔ مقر مذکور اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور دیکھے کہ اس کا قول کس قدر شنیع فقطیع ہے کہ جماعت فقہاء کے نزدیک کفر ٹھہرتا ہے تو دوسرے طور پر اس کی بیان کردہ مراد مسموع نہ ہوگی۔ مگر بحمدہ تعالیٰ ہم اس باب میں متکلمین کی محتاط روش پر چلتے ہیں اور کلام میں جب تک کوئی احتمال مانع تکفیر قائم ہو زبان تکفیر کے ساتھ نہیں کھولتے ۔ درمختار میں ہے: ”لا یفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامه علی محمل حسن ولو كان روايته ضعيفة“ الہذا اس جملہ پر زید کی تکفیر نہ کی جائے گی مگر تو بہ ضرور کرے اور احتیاطاً تجدید ایمان بھی لازم ہے اور شادی شدہ ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ در مختار میں ہے: ”ومافيه خلاف يومربالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح-ا“ واللہ تعالیٰ اعلم اور مقرر مذکور کا ویدوں اور چوپائیوں کو آسمانی کتابیں کہنا بھی باطل ہے اور شریعت پر افتراء ہے۔ اس سے بھی اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے کہ یہ بلا دلیل غیر معلوم النبوۃ کو نبی کہنا ہے جو حرام ہے۔ اور ہمارے نبی علیہ السلام سے متاخر کے لئے اثبات نبوت کفر ہے اور گرونانک قطعا متأخر ہے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۹رذی الحجہ ۱۳۹۸ھ