قرآن مجید کا انکار کرنے اور کفریہ کلام کہنے والے پر حکمِ شرعی
اس بات کو انہوں نے دو بار کہا جو ہندی تحریر میں لکھا گیا ہے ایسے شخص کے خلاف شریعت کا کیا فتویٰ عائد ہوتا ہے؟ جناب سارخان ولد لال خان ساکن مہرونی جو کلام پاک کو نہیں مانتے ہیں اور رمضان مستری ولد وزیر خاں احمد خاں منصوری ساکن مہرونی وغیرہ ان کے ساتھ رہنے والوں کے خلاف کیا فتویٰ ہے؟ مہربانی کر کے تحریر کرنے کی زحمت گوار فرما ئیں۔ المستفتی : حفیظ خاں ولد ولی بخش ، قصبہ مہرونی ضلع للت پور، یوپی
الجواب: خط کشیدہ جملہ کفریہ ہے۔ جس شخص نے یہ جملہ کہا وہ اسلام سے خارج ہے۔ اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور جو اس کے اس جملہ سے راضی ہیں ان کا بھی ی حکم ہے جو قائل کا ہے اور اس کے ساتھ رہنا، اس کا ساتھ دینا سخت حرام ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ شرعی طور پر ثابت ہو کہ اس نے وہ جملہ کہا، بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف کسی گناہ کی نسبت کرنا جائز نہیں۔ اور سوال فرضی نام سے کرنا چاہئے ۔ مسئول عنہ کا نام ظاہر نہ کرنا چاہئے ، بلکہ یوں پوچھے که مثلا زید، عمرو کے لئے کیا حکم ہے؟ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم وہی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رذی الحجہ ۱۴۱۱ھ