قرآن مجید کا سہواً از راہ جہالت غلط پڑھنا کفر نہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے بھرے جلسے میں ایک آیت کریمہ لمران اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ الآية } کی تلاوت کی غلطی یہ ہوئی کہ يُصَلُّونَ “ کے بجائے يُصَلُّونَ ادا ہوا۔ تلاوت کرنے والے نے خود غلطی محسوس کی اور بھرے جلسے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر معافی مانگ لی۔ پھر بھی ایک مولانا صاحب نے اسی بھرے جلسے میں کفر کا فتویٰ لگا کر تلاوت کرنے والے سے کھڑے ہوکر بآواز بلند تو بہ کرالی۔ جبکہ قرآن مجید میں ۲۰ مقامات ایسے ہیں کہ جن میں زیر، زبر، پیش کے فرق آنے سے کفر لازم ہوتا ہے۔ ان مقامات سے یہ مقام الگ ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس سوال کا جواب دیں کہ مولا نا صاحب کا
الجواب: بر تقدیر صدق سوال تالی نے آیت کریمہ اگر سہواً یا از راہ جہالت غلط پڑھی ہو قصداً غلط نہ پڑھی ہو تو اس پر حکم کفر نہیں۔ بلکہ صرف تو یہ ورجوع کافی ہے۔ جبکہ از راہ جہالت و نا واقعی غلطی ہوئی ہو اور وہ تو بہ کر چکا تو اس پر الزام دینا مطلقا صحیح نہیں بلکہ تحریف کا قصد ا ثابت ہونے پر منحصر اور وہ یہاں منتقی تو حکم کفر نہیں۔ جس نے حکم کفر دیا، غلط کیا۔ اس پر تو بہ ور جوع لازم ہے ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ / ربیع الآخر ۱۴۰۹ھ